جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 8 ستمبر (یو این آئی) روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیراعظم نریندر مودی کےدرمیان جمعہ کے روز نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر دوطرفہ بات چیت کے دوران معاشی اور دفاعی تعلقات کو گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ یوکرین اور ایران کی جنگوں پر تبادلہ خیال ہونے کی امید ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کی ہندوستانی شاخ کی جانب سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ہندوستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ اس ملاقات میں جوہری توانائی، دفاعی پیداوار اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں ہند-روس تعاون کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ماسکو نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنی سب سے جدید ملٹری ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں ایس یو۔57 پانچویں نسل کے فائٹر ایئرکرافٹ پر ممکنہ تعاون بھی شامل ہے۔
برکس سربراہ اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں منعقد ہونے والا ہے، جس میں اس تنظیم کے بنیادی رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ کے قائدین برکس میں شامل ہونے والے دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، یو اے ای اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
پیسکوف نے ایک آن لائن بریفنگ میں ہندوستانی صحافیوں کو بتایا، "ہمارے پاس بہت بہترین ملٹری آلات ہیں۔ ان میں سے کچھ آلات دنیا میں سب سے بہترین ہیں، اور ہم اپنے ہندوستانی شراکت داروں کے ساتھ وہ آلات شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں”۔
نئی دہلی کے ماسکو کے ساتھ دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات ہیں، اور یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وہ روس کے ساتھ تجارت کے تعلق سے واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے میں مصروف ہے۔ دونوں ممالک یوکرین کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں روس پر عائد مالیاتی پابندیوں کے باوجود دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے راستے بھی تلاش کر رہے ہیں۔
پیسکوف نے کہا کہ ماسکو ہندوستانی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو وسعت دینا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے روپے-روبل تجارتی انتظامات کے ذریعے جمع ہونے والے روپے کے بقایا جات کو تدریجی طور پر کم کر رہا ہے، جسے ہندوستان خام تیل خریدنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ نئی دہلی نے رواں سال جولائی میں ریکارڈ 2.82 بلین بیرل خام تیل خریدا، جو اس کی کل درآمدات کا تقریباً 55 فیصد تھا، اگرچہ اگست میں یہ عدد گھٹ کر 2.08 ملین بیرل رہ گیا، جو اس مہینے میں ہندوستانی درآمدات کا 45 فیصد تھا۔
ادائیگیوں کا مسئلہ وسیع تر برکس بات چیت میں نمایاں طور پرزیربحث آنے کا کا امکان ہے۔ پیسکوف نے روس کی پالیسی کو "ڈی ڈالرائزیشن” کی مہم کے طور پر بیان کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو صرف ایسے ادائیگی کے طریقہ کار کی تلاش میں ہے جو اس کے قومی مفادات کوپورا کرتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ روس اب برکس ممالک کے ساتھ اپنی 90 فیصد تجارت قومی کرنسیوں میں کرتا ہے۔
پیسکوف نے کہا، "ہم کسی ڈی ڈالرائزیشن پالیسی کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”۔
ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب برکس اراکین ڈالر پر مبنی ادائیگیوں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس گروپ کو ڈالر کے بین الاقوامی کردار کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف بار بار خبردار کیا ہے۔ ڈالر سے دوری ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دنیا بھر کے ممالک کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اپنی تجارت کو ڈالر سے جوڑنے سے ان کے بلوں میں کافی اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے بیشتر اشیاء اور سامان کی تجارت کا تصفیہ ڈالر میں کرنے کا رجحان بڑھا ہے، ایک ایسا رجحان جس میں 1970 کی دہائی کے وسط میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے بعد تیزی آئی۔
کریملن کے ترجمان پیسکوف نے برکس کو ایک زیادہ کثیر قطبی بین الاقوامی نظام کی طرف وسیع تر تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر پیش کرنے کی بھی کوشش کی، اور دلیل دی کہ سرد جنگ کے بعد کے نظام کا غلبہ کمزور ہو رہا ہے۔
یہاں کے حکام نے کہا کہ یوکرین مودی-پوتن ایجنڈے کا ایک اور اہم نقطہ ہونے کی توقع ہے۔ ہندوستان نے ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے تنازعہ کو ختم کرنے کا بار بار مطالبہ کیا ہے۔ پوتن کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی اور روسی حکام ممکنہ تصفیے کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر نے رواں ماہ کے شروع میں ماسکو میں پوتن کے ساتھ بات چیت کی تھی کیونکہ واشنگٹن روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کو بحال کرنا چاہتا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ ماسکو جنگ کو ختم کرنے کے مقصد سے کیے جانے والے "تمام اقدامات” کا خیرمقدم کرتا ہے، بشمول ہندوستان اور امریکہ پر مشتمل اقدامات۔ انہوں نے روس کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ماسکو کے خلاف عائد پابندیاں کسی بھی حتمی تصفیے پر ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہونی چاہئیں۔
گزشتہ ماہ کے اوائل میں، مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے حاشیے پر بشکیک میں پوتن سے ملاقات کی تھی اور یوکرین تنازعہ کو ختم کرنے پر زور دیا تھا۔
انہوں نے کہا، "ہم پرامن ذرائع سے یوکرینی تنازعہ کا حل چاہتے ہیں، اور روس اس عمل کے لیے تیار ہے”۔
روسی توانائی اور دفاعی سپلائیز پر انحصار کے ساتھ ساتھ امریکی پابندیوں اور عالمی تجارت کی وسیع تر از سر نو تشکیل نے ہندوستان کے توازن قائم رکھنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی-پوتن ملاقات دونوں فریقین کو معاشی تعلقات کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ یہ اشارہ دیتی ہے کہ "مغربی دباؤ نے ان کے اسٹریٹجک تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کیا ہے”۔
ایران تنازعہ اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے اثرات بھی ہم آہنگی کا ایک اور نقطہ فراہم کر سکتے ہیں۔ پیسکوف نے خبردار کیا کہ خلیج فارس کے ارد گرد جاری تنازعہ پہلے ہی عالمی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ روس آبنائے ہرمز کے ذریعے بلا تعطل تجارتی جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "بدقسمتی سے صورتحال اور آبنائے ہرمز میں ماحول اب بھی بہت کشیدہ ہے”، انہوں نے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے آزادانہ نقل وحمل کو "بہت اہم” قرار دیا۔
یہ تشویش ہندوستان کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور آبنائے کے ارد گرد نئی رکاوٹوں نے پہلے ہی روپے اور ہندوستان کے بیرونی توازن پر دباؤ ڈال دیا ہے۔
پیسکوف نے صدر ٹرمپ کی اس حالیہ تجویز کو بھی مسترد کر دیا کہ چاند امریکہ کا ہے، اور کہا کہ ماسکو خلائے بسیط کی نجکاری کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم خلاء کی نجکاری کے خیال کی حمایت کر سکتے ہیں۔ اسے اس سے آزاد ہونا چاہیے”۔







