نئی دہلی، 08 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں مساویانہ حق دلانے کے مقصد سے منعقدہ قومی خواتین کمیشن کی قومی کانفرنس میں ملک بھر سے آئی خواتین کے مسائل اور ان کی آواز کو فلیٹ فارم فراہم کرنے کے بجائے ان کی آواز دبانے اور بی جے پی کی تعریف پر مرکوز رہی۔
کانگریس رہنما راگنی نایک بسویا، انیلا بھینڈیا اور بندو کرشنن نے منگل کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ فرید آباد میں گزشتہ دو دنوں سے منعقدہ کانفرنس خاتون قانون سازوں کو ‘جینڈر رسپانسیو’ بنانے پر مرکوز تھی جس کا مقصد خواتین کو تبدیلی کے انقلاب کی علمبردار بتانا تھا، لیکن پروگرام میں جو کچھ ہوا اس میں سب کچھ اس تھیم کے الٹ دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ مختلف ریاستوں کی خاتون وزراء کو پروگرام میں اسٹیج پر بلایا گیا لیکن افتتاح لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے کرایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خاتون نمائندوں کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا اور یہاں تک کہ خواتین کو اسٹیج کی نظامت کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا۔
محترمہ بندو کرشنن نے کہا کہ وہ اس امید کے ساتھ ورکشاپ میں شامل ہوئی تھیں کہ انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا، لیکن پروگرام میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹر انگریزی میں تھے اور باقی کارروائی ہندی میں ہوئی، جس سے جنوبی ہندوستان سے آنے والی خواتین کو سمجھنے میں پریشانی ہوئی۔ انہوں نے ایک سیشن میں اپنی سہولت کے لیے انگریزی میں بولنے کی درخواست کی، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں شامل خاتون نمائندوں کو اپنے خیالات رکھنے کا موقع ملنا چاہیے تھا اور خواتین کے ریزرویشن کے قانون جیسے اہم موضوعات پر بحث ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب ان کی بات نہیں سنی گئی اور پورا پروگرام بی جے پی کی تشہیر جیسا نظر آیا تو وہ میٹنگ چھوڑ کر چلی آئیں۔
محترمہ انیلا بھینڈیا نے کہا کہ مختلف ریاستوں سے خاتون قانون ساز ورکشاپ میں شامل ہوئی تھیں اور ان میں سے کئی سینئر اور متعدد بار منتخب ہونے والی رکن اسمبلی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کمیشن کے پروگرام میں خواتین کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی لیکن انہیں ہال میں پیچھے بیٹھنا پڑا اور جب اس پر اعتراض جتایا گیا تو بعد میں آگے بیٹھنے کا موقع دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ریاست سے کم از کم ایک سینئر خاتون قانون ساز کو بولنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا، لیکن اسٹیج سے صرف حکومت کی تعریف کی گئی۔ ایسی صورتحال میں ملک بھر کی خاتون نمائندوں کو بلانے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد سے جڑے پرانے معاملات التوا میں ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کی وجہ سے جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کو دوسرا درجہ نہ ملے، اس مسئلے پر بھی جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کی خاتون نمائندوں نے اپنی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ایسی زبان میں گفتگو کرانے کی درخواست کی جسے تمام نمائندے آسانی سے سمجھ سکیں، لیکن ان کی بات پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے منعقدہ یہ پروگرام خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر بحث کرنے کے بجائے سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی خواتین کمیشن کا کام خواتین کو اپنی بات رکھنے اور ان کے مسائل کے حل کا منچ فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کی تعریف کرنا۔ خواتین کو اپنے من کی بات کہنے کا موقع نہ دیا جائے تو ایسے پروگراموں کا مقصد ہی ناکام ہو جائے گا۔






