آئی ایف ایف جے کے کو سال بھر جاری رہنے والے فلمی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جائیگا؛ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مواقع فراہم کرنے پر زور
سری نگر؍۱۰ ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر(آئی ایف ایف جے کے )کو محض سالانہ چار روزہ تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے پورے سال فلموں کی نمائش، تربیت، تعلیم اور باہمی تعاون کا مستقل پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔
ڈل جھیل کے کنارے پہلے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو صرف ایک خوبصورت فلمی لوکیشن کے طور پر نہیں بلکہ ایسی جگہ کے طور پر ابھرنا چاہیے جہاں کہانیاں جنم لیں، صلاحیتیں دریافت ہوں اور فلمیں تخلیق کی جائیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت فلمی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارم اور سازگار ماحول فراہم کرے گی، تاہم ایک توانا فلمی ثقافت کو برقرار رکھنے کے لیے تخلیقی برادری کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں سرمایہ کاری اس پورے عمل کا مرکز ہونی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیسٹیول کے دوران نوجوان فلم سازوں، مصنفین اور فنکاروں کو ملک اور دنیا بھر کے پیشہ ور افراد سے ملنے کے جو مواقع ملے، وہ مستقبل میں نئے امکانات اور اشتراک کا باعث بنیں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ دس برس بعد آئی ایف ایف جے کے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جانا چاہیے کہ کتنی فلمیں دکھائی گئیں یا کتنی معروف شخصیات نے شرکت کی، بلکہ اس بات سے لگایا جائے کہ کتنے کیریئر یہاں سے شروع ہوئے، کتنے نئے مواقع اور تعاون پیدا ہوئے اور جموں و کشمیر کی کتنی کہانیاں بھارت اور دنیا کے ناظرین تک پہنچیں۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ اس پہلے ایڈیشن میں۳۰ سے زائد ممالک کی۱۲۰فلموں کی نمائش فیسٹیول کے حجم کو ظاہر کرتی ہے، تاہم اس کی اصل اہمیت ان روابط میں ہے جو اس دوران فلم سازوں اور ناظرین کے درمیان قائم ہوئے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک نوجوان مصنف کی ہدایت کار سے ملاقات، کسی ابھرتے ہوئے فلم ساز کا تجربہ کار پیشہ ور سے سیکھنا یا ایسے دو افراد کا ملنا جو مستقبل میں مل کر فلم بنائیں، فیسٹیول کی حقیقی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے پاس سنیما کو دینے کے لیے قدرتی مناظر سے کہیں زیادہ بہت کچھ ہے۔ کہانیاں یہاں کے شہروں، قصبوں، دیہات، زبانوں، ادب، موسیقی، دستکاری، تاریخ اور روزمرہ زندگی میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مناظر فلم سازوں کو یہاں لا سکتے ہیں، لیکن مقامی کہانیاں، لوگ اور پیشہ ورانہ فلم سازی کا ماحول انہیں دوبارہ یہاں آنے پر آمادہ کرے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بھارت اور دنیا بھر کے فلم سازوں کا خیرمقدم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی فنکاروں اور فلم سازوں کو بھی ایسے مواقع فراہم کرنے ہوں گے کہ وہ خطے سے باہر ناظرین اور شراکت داروں تک پہنچ سکیں۔
عمرعبداللہ نے سنیما کے معاشی امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلم سازی سے پیشہ ور افراد، مقامی خدمات، فنکاروں، ہنرمندوں اور کاروباری شعبے کے لیے روزگار اور دیگر مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر آنے والے فلم ساز یہاں سے صرف یادیں لے کر نہ جائیں بلکہ مہارت، روزگار اور مقامی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے پہاڑ اور جھیلیں کسی فلم ساز کو ایک مرتبہ یہاں لا سکتی ہیں، لیکن یہاں کام کرنے کا مثبت تجربہ انہیں دوبارہ آنے پر مجبور کرے گا۔انہوں نے ملک اور بیرون ملک سے آئے فلم سازوں، اداکاروں اور مندوبین کو جموں و کشمیر واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں فلمیں بنائیں، لکھیں، تربیت دیں، تعاون کریں اور خطے کو مزید دریافت کریں۔
نوجوان فلم سازوں اور کہانی کاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ فن سیکھیں، تجربات کریں اور اپنے محلوں، دیہات، خاندانوں اور اپنی نسل کی کہانیاں بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ سنیما کی بعض طاقتور ترین آوازیں انتہائی ذاتی اور مقامی ہوتی ہیں، تاہم ان کے لیے صداقت اور مضبوط فنی معیار ضروری ہے۔
فیسٹیول کے دوران ڈل جھیل پر کلاسک فلموں کی نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’جنگلی‘، ’آرزو‘، ’کشمیر کی کلی‘ اور ’کبھی کبھی‘ جیسی فلموں کی اسی منظرنامے کے سامنے نمائش ایک خاص تجربہ تھا جس نے کشمیر کو ان فلموں کی بصری یادداشت سے دوبارہ جوڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک کشمیر سنیما اسکرین کے ذریعے ناظرین تک پہنچتا رہا، لیکن اس ہفتے، ایک معنوں میں، اسکرین واپس کشمیر آ گئی۔
وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ تیرتے سینما کا یہ تجربہ جموں و کشمیر کے پہلے فلم فیسٹیول کی یادگار ترین علامتوں میں شامل رہے گا۔انہوں نے فیسٹیول کی جیوری، فلم سازوں، مندوبین، فنکاروں اور فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہمان بن کر آئے تھے اور امید ہے کہ جموں و کشمیر کے دوست اور مستقبل کے شراکت دار بن کر واپس جائیں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ چار روز قبل پہلے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر کا پردہ اٹھایا گیا تھا اور آج اس پہلے ایڈیشن کا پردہ گر رہا ہے، تاہم اس فیسٹیول کے قیام کا بنیادی خیال ختم نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر کے فلم ساز دنیا بھر کے فیسٹیولز میں ایسی کہانیوں کے ساتھ نظر آئیں جنہیں پہلی بار یہاں حوصلہ یا موقع ملا تھا، تو ان چار دنوں کو ڈل جھیل کے کنارے ایک دیرپا سفر کے آغاز کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









