سرینگر؍۱۰ستمبر
گزشتہ سال لال قلعہ کے قریب کار دھماکا کرنے والے مبینہ خودکش بمبار نے بم تیار کرنے کے لیے ممکنہ طور پر یوریا استعمال کیا تھا۔ ملک کی اعلیٰ انسدادِ دہشت گردی ایجنسی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اپنی چارج شیٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے۔
این آئی اے کے مطابق ڈاکٹر عمر اُن نبی نے مبینہ طور پر اس مقصد کے لیے پیشاب سے یوریا نکالا تھا۔ ایجنسی نے چارج شیٹ میں کہا ہے کہ اس نے گواہوں کے بیانات اور فرانزک شواہد کی مدد سے نبی کی نقل و حرکت، اس کے موبائل فون کے استعمال اور نوح میں قیام کے دوران دھماکا خیز مواد کی تیاری سے متعلق معلومات جمع کی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ نبی نے دھماکے سے قبل دھماکا خیز مواد سے لدی اپنی آئی۲۰کار پہلے لال مندر، جو ایک جین مندر ہے، کے قریب کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم بعد میں وہ ریڈ فورٹ کی جانب چلا گیا۔۱۰ نومبر۲۰۲۵ کو ہونے والے اس دھماکے میں۱۱؍ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
ایک قریبی رہائشی کے بیان کے مطابق نبی دھماکے سے ایک روز قبل تک تقریباً۱۱ دن نوح کے ایک کرائے کے کمرے میں مقیم رہا تھا، جہاں مبینہ طور پر اس نے دھماکا خیز مواد تیار کیا۔
این آئی اے کی چارج شیٹ کے مطابق نبی اور ایک دیگر مشتبہ شخص شاہین سعید کی پین ڈرائیوز سے برآمد ہونے والی پی ڈی ایف فائلوں میں یوریا نائٹریٹ کے ذریعے دھماکا خیز مواد تیار کرنے کا طریقہ موجود تھا۔ دستاویزات میں یوریا کو پیشاب سے نکالنے کا ایک متبادل طریقہ بھی درج تھا، جسے این آئی اے نے قابلِ ذکر قرار دیا ہے۔
ایجنسی نے ایک گواہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک ایسے پولی بیگ کو دیکھا تھا جس میں پیشاب بھرا ہوا تھا اور جس کی بدبو سے نبی کا کمرہ بھر گیا تھا۔ خاتون نے مبینہ طور پر اس بارے میں نبی کے دوست شعیب سے شکایت بھی کی تھی۔
چارج شیٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نوح میں قیام کے دوران نبی شعیب کے ایک رشتہ دار کے ساتھ نئے کپڑے خریدنے گیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر ایک ٹی شرٹ، سفید قمیض اور کارگو پینٹ خریدی، جبکہ ادائیگی نقد کی گئی۔ این آئی اے کے مطابق یہ خریداری بھی تفتیش میں اہم شواہد کا حصہ ہے۔
این آئی اے کی چارج شیٹ کے مطابق خودکش بمبار کا ابتدائی ہدف بظاہر لال مندر تھا، لیکن وسطی دہلی میں ٹریفک اور پولیس کی موجودگی کے باعث اسے آخری وقت میں اپنا منصوبہ تبدیل کرنا پڑا۔
ایجنسی نے وسیع تر سازش کا سراغ لگانے کے لیے نبی کی نقل و حرکت کا نقشہ تیار کیا۔ اس کے مطابق نبی شام تقریباً۶ بج کر۳۷ منٹ پر سنہری مسجد کی پارکنگ سے نکلا۔ اس نے اپنی گاڑی چلائی اور لال مندر کے قریب گاڑی کھڑی کرنے کی کوشش کی۔تاہم ٹریفک اور پولیس کی موجودگی کے باعث اس نے یو ٹرن لیا اور ریڈ فورٹ پہنچ گیا۔ چند ہی منٹ بعد، تقریباً۶ بج کر۵۰ منٹ پر دھماکا ہوگیا۔
این آئی اے کو اس سے قبل بھی معلوم ہوا تھا کہ نبی نے۲۰۲۳ سے۲۰۲۵کے درمیان ریڈ فورٹ کے۱۲ دورے کیے تھے۔ اس کا آخری دورہ دھماکے سے تقریباً چھ ماہ قبل، یکم مئی کو ہوا تھا۔ ایجنسی کے مطابق یہ دورے محض سیاحت کی غرض سے نہیں تھے بلکہ ممکنہ طور پر دھماکے کی منصوبہ بندی کے لیے جگہ کا جائزہ لینے (ریکانائسنس) کے مقصد سے کیے گئے تھے۔
این آئی اے کا مزید دعویٰ ہے کہ ایسے دوروں کے دوران نبی اور اس کے ساتھی اپنے موبائل فون بند کردیا کرتے تھے، جس سے ایجنسی کو شبہ ہے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل نقل و حرکت کا ریکارڈ چھپانا چاہتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










