نئی دہلی، 09 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا خام جوٹ پیدا کرنے والا ملک ہے اور جوٹ کی صنعت سے تقریباً 40 لاکھ کسان خاندانوں اور 3.70 لاکھ مزدوروں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے۔
سرکاری اطلاع کے مطابق مالی سال 25-2024 میں ملک میں 76 لاکھ گانٹھ خام جوٹ اور 12.80 لاکھ ٹن جوٹ کی مصنوعات کی پیداوار ہوئی۔ اس دوران 1.71 لاکھ ٹن جوٹ مصنوعات برآمد کی گئیں، جس کی مالیت 3,155.27 کروڑ روپے رہی۔ مالی سال 27-2026 کے لیے خام جوٹ کی کم از کم امدادی قیمت 5,925 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ آل انڈیا ویٹڈ ایوریج لاگتِ پیداوار پر 61.8 فیصد منافع کو یقینی بناتی ہے۔
جوٹ قدرتی طور پر بائیو ڈیگریڈیبل ہے، یعنی استعمال کے بعد یہ ماحول میں قدرتی طور پر حل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جوٹ سے بنے جیو ٹیکسٹائل (جوٹ کے ریشوں سے تیار کردہ کپڑے جیسی اشیاء) کا استعمال مٹی کے کٹاؤ کو روکنے، ڈھلانوں کے تحفظ، سڑک کی تعمیر اور نکاسی آب جیسی سرگرمیوں میں کیا جا رہا ہے۔







