اس میں شک نہیں کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس دو اتحادی جماعتیں ہیں اور دونوں جماعتیں جموں و کشمیر میں ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کا حصہ ہیں، لیکن اتحاد کا بنیادی مفہوم یہ ہرگز نہیں کہ اس میں شامل سیاسی جماعتیں اپنی انفرادی شناخت، نظریاتی ترجیحات اور سیاسی موقف سے دستبردار ہوجائیں۔ جمہوری سیاست میں اتحاد مختلف جماعتوں کے درمیان مشترکہ مقاصد کے لیے تعاون کا نام ہے، نظریاتی انضمام کا نہیں۔ اس لیے اگر وندے ماترم کے معاملے پر کانگریس کا اپنا تاریخی اور سیاسی موقف ہے تو اسے اختیار کرنے کا اسے پورا حق حاصل ہے، لیکن اسی موقف کو نیشنل کانفرنس پر مسلط کرنا نہ اتحادی سیاست کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی جمہوری رواداری کے اصولوں سے۔
وندے ماترم کا معاملہ محض آج کا سیاسی مسئلہ نہیں۔ اس کے ساتھ ایک طویل تاریخی پس منظر وابستہ ہے اور کانگریس کا موجودہ موقف بھی اسی تاریخ کے تناظر میں تشکیل پایا ہے۔ کانگریس نے ماضی میں وندے ماترم کے مکمل متن کے بعض حصوں کے بارے میں جو تحفظات ظاہر کیے، ان کے پس منظر میں ہندوستان کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تنوع کو پیش نظر رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس آج بھی وندے ماترم کے پہلے دو بندوں تک محدود رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ گزشتہ ماہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھی۱۹۳۷ء کے فیصلے کے مطابق پارٹی کی تقریبات میں وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کیا۔
یہ موقف درست ہے یا غلط، اس پر سیاسی اور نظریاتی بحث ہوسکتی ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کے تاریخی موقف کو محض اس لیے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ موجودہ سیاسی ماحول میں مقبول نہیں۔ کانگریس کو حق ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی وضاحت کرے، اس کے تاریخی اسباب بیان کرے اور اپنے کارکنوں کو اسی کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت دے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی جمہوری اصول بھی ملحوظ رہنا چاہیے: جو چیز کانگریس اپنے لیے اختیار کرتی ہے، ضروری نہیں کہ اس کا اتحادی بھی اسے اسی انداز میں اختیار کرے۔
یہی نکتہ موجودہ تنازع میں سب سے زیادہ اہم ہے۔سری نگر میں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں نیشنل کانفرنس کی قیادت نے وندے ماترم کے مکمل ورژن کی پیشکش کے دوران کھڑے ہوکر شرکت کی۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت پارٹی کی قیادت کا یہ طرز عمل مرکز کی جانب سے جاری کیے گئے نئے پروٹوکول کے مطابق تھا۔ اگر حکومت نے سرکاری تقریبات میں مکمل وندے ماترم کے حوالے سے ایک نیا ضابطہ وضع کیا ہے اور کسی تقریب کے منتظمین نے اسی کے مطابق عمل کیا ہے تو محض اس بنیاد پر نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں کہ اس کی اتحادی جماعت کانگریس اس پالیسی سے اتفاق نہیں کرتی۔
اتحادی سیاست میں اختلاف کی گنجائش ہی دراصل اتحاد کو مضبوط بناتی ہے۔ اگر اتحاد کا مطلب یہ ہوجائے کہ ایک جماعت دوسری جماعت کے ہر فیصلے، ہر نظریاتی مؤقف اور ہر سیاسی طرز عمل کی پابند ہوگی تو پھر اتحاد اور انضمام میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ سیاسی جماعتیں اپنی شناخت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوتی ہیں۔ عوام بھی انہیں ان کی الگ شناخت، نظریاتی پس منظر اور سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ لہٰذا کسی اتحادی جماعت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے بنیادی سیاسی یا ثقافتی موقف کو محض اتحاد کی خاطر ترک کردے، جمہوری سیاست کی صحت مند روایت نہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے مکمل وندے ماترم کے حوالے سے جو اعتراض اٹھایا، اس میں انہوں نے ملک کے تکثیری اور ہم آہنگ معاشرتی مزاج کا حوالہ دیتے ہوئے ماضی کے قومی رہنماؤں کے فیصلوں کو اہم قرار دیا۔ یہ ایک سیاسی موقف ہے اور کانگریس کو اسے بیان کرنے کا حق ہے۔ لیکن جب یہی موقف نیشنل کانفرنس کے طرز عمل پر اعتراض میں تبدیل ہوجائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ نیشنل کانفرنس اگر یہ سمجھتی ہے کہ مکمل وندے ماترم گانے یا اس کے دوران احتراماً کھڑے ہونے میں کوئی قباحت نہیں تو یہ اس کا اپنا سیاسی فیصلہ ہے۔ کانگریس اس سے اختلاف کرسکتی ہے، لیکن اسے اس فیصلے پر عمل کرنے سے روکنے کا حق نہیں رکھتی۔
اسی طرح نیشنل کانفرنس کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اتحاد کا مطلب کانگریس کے اعتراضات کو نظر انداز کرنا نہیں۔ اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہوں تو ان پر باہمی مشاورت اور سیاسی مکالمے کے ذریعے قابو پایا جانا چاہیے۔ عوامی سطح پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا یہ تاثر دینے سے کہ فلاں جماعت کسی بیرونی قوت کے دباؤ میں کام کررہی ہے، اتحاد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ کانگریس کی طرف سے نیشنل کانفرنس کو ’’ناگپور‘‘ کی مبینہ ہدایت پر عمل نہ کرنے کا مشورہ بھی اسی لیے غیر ضروری سیاسی تلخی پیدا کرتا ہے۔ اختلاف کو اختلاف ہی رہنے دینا زیادہ بہتر ہے؛ اسے وفاداری کے امتحان میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔
دوسری طرف بی جے پی نے اس تنازع کو کانگریس پر سیاسی حملے کے لیے استعمال کرتے ہوئے اسے ’’نئی مسلم لیگ‘‘ قرار دینا شروع کردیا ہے۔ یہ طرز سیاست بھی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید جذباتی اور تقسیم کن بناتا ہے۔ وندے ماترم جیسے قومی احساس سے جڑے موضوع کو فوری طور پر جماعتی لیبلوں اور مذہبی حوالوں میں تبدیل کردینا دراصل اس کی تاریخی اہمیت کو سیاسی نعروں کے نیچے دبا دیتا ہے۔ کسی جماعت کے موقف سے اختلاف کرنا ایک بات ہے، اسے کسی مخصوص مذہبی یا تاریخی شناخت سے جوڑ کر سیاسی طور پر بدنام کرنا دوسری بات۔
قومی علامتوں کا احترام بلاشبہ ضروری ہے۔ قومی ترانہ ہو، قومی گیت ہو، قومی پرچم ہو یا آئین، ان کے ساتھ احترام کا رویہ ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن احترام کا تقاضا یہ بھی ہے کہ قومی علامتوں کو سیاسی محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ وطن سے محبت کا کوئی ایک سیاسی پیمانہ نہیں ہوسکتا۔ حب الوطنی کو کسی ایک جماعت، نظریے یا سیاسی کیمپ کی ملکیت قرار دینا بھی اتنا ہی نامناسب ہے جتنا قومی علامتوں کی اہمیت سے انکار کرنا۔
وندے ماترم کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ حکومت نے اگر سرکاری تقریبات کے لیے ایک مخصوص پروٹوکول طے کیا ہے تو سرکاری اداروں اور ان تقریبات کے منتظمین کے لیے اس کی پابندی ایک انتظامی معاملہ ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی داخلی تقریبات، ان کے نظریاتی فیصلے اور ان کی اپنی سیاسی سرگرمیاں الگ معاملہ ہیں۔ اس فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے، ورنہ قومی پروٹوکول اور جماعتی سیاست ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہوجائیں گے کہ ہر اختلاف کو قومی وفاداری کے سوال میں تبدیل کرنا آسان ہوجائے گا۔
نیشنل کانفرنس کا مکمل وندے ماترم کے دوران کھڑا ہونا بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس نے کسی دوسری جماعت کو اپنے موقف سے اتفاق کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ اسی طرح کانگریس بھی اپنے کارکنوں اور اپنی تقریبات میں اپنے طے شدہ اصول پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہے۔ دونوں جماعتوں کے راستے اس مسئلے پر مختلف ہوسکتے ہیں اور پھر بھی وہ وسیع تر سیاسی مقاصد کے لیے ایک ساتھ کام کرسکتی ہیں۔ یہی تو جمہوری اتحاد کی اصل روح ہے۔




