جموں؍۸ ستمبر
جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو پونچھ ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے ملحق دیہات کے باشندوں کے ساتھ ایک سکیورٹی بیداری اجلاس منعقد کیا، جس میں انہیں چوکس رہنے اور سرحد پار سے کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت یا سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی اپیل کی گئی۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق مینڈھر سیکٹر کے بالاکوٹ علاقے میں زیرو لائن پر پولیس کمیونٹی پارٹنرشپ گروپ (پی سی پی جی) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پونچھ اجے شرما کی نگرانی میں ہوا، جس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا، سکیورٹی امور میں مقامی لوگوں کی شرکت بڑھانا اور سرحدی آبادی کو درپیش جائز مسائل کا ازالہ کرنا تھا۔
اجلاس کے دوران بالخصوص سرحدی دیہات کے رہائشیوں کو موجودہ سکیورٹی چیلنجز اور دراندازی، دہشت گردی، ملک دشمن سرگرمیوں، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے خلاف چوکس رہنے کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ مقامی باشندوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، گاڑی، چیز یا غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو دیں۔
منشیات اور منشیات کی اسمگلنگ کے خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور باشندوں پر زور دیا گیا کہ وہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کریں۔
اس موقع پر سائبر فراڈ کے مختلف طریقوں، جن میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، فشنگ لنکس، او ٹی پی اور پن فراڈ اور جعلی بینکنگ لین دین شامل ہیں، کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ لوگوں کو آن لائن لین دین کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی۔
سرحدی علاقوں کے باشندوں نے سرحدی دیہات تک رسائی، سکیورٹی چیکنگ، اسمارٹ فینس کی تنصیب اور جنگلی سوروں کی جانب سے زرعی فصلوں کو بار بار نقصان پہنچانے کے مسائل بھی اٹھائے۔
ترجمان کے مطابق ان شکایات کو تحمل سے سنا گیا اور یقین دلایا گیا کہ سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جائز مسائل کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھا کر ان کے مناسب ازالے کی کوشش کی جائے گی۔
اجلاس مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جہاں بالاکوٹ کے زیرو لائن اور سرحدی علاقوں میں امن، سلامتی اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے مقامی باشندوں نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، کسٹمز اور ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) سمیت مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے منگل کو جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے طریقوں پر غور کیا۔
یہ اجلاس جموں و کشمیر اور لداخ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں منشیات کی روک تھام سے متعلق دوسرے یو ٹی سطح کے جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے سی سی) اجلاس کے دوران منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے شمال مغربی خطے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سمبت مشرا نے کی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اجلاس میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اور متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی، جن میں ای ڈی، بی ایس ایف، اسٹیٹ ڈرگ کنٹرولر، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، کسٹمز، ڈی آر آئی، انکم ٹیکس اور این آئی اے کے افسران کے علاوہ جموں، سری نگر اور گاندربل کے ضلعی ایس ایس پیز شامل تھے۔
شرکا نے منشیات کے خلاف کارروائیوں کے اپنے تجربات اور اقدامات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں منشیات کی اسمگلنگ کے بدلتے رجحانات، بین الریاستی روابط، غیر قانونی کاشت، معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقات، مالیاتی تفتیش اور مقدمات کی مؤثر پیروی سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے رواں سال نئی دہلی میں نارکو کوآرڈی نیشن سینٹر (این سی او آر ڈی) کے اعلیٰ سطحی دسویں اجلاس میں پیش کیے گئے ’’ویژن ڈاکیومنٹ آن ڈرگ کنٹرول(۲۰۲۶۔۲۰۲۹)‘‘ پر عمل درآمد کے لیے کوششیں تیز کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نیٹ ورک پر مبنی حکمت عملی اختیار کی جائے گی، تاکہ صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری تک کارروائی محدود رکھنے کے بجائے پورے غیر قانونی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جاسکے۔
اجلاس میں مختلف اداروں کے درمیان مزید مؤثر رابطہ کاری، مشترکہ پوچھ گچھ، مالیاتی تحقیقات کو مضبوط بنانے اور دستیاب معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔









