سری نگر؍۸ ستمبر
سری نگر میں ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج کے حکام نے منگل کو ہڑتال کرنے والے میڈیکل انٹرنز کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں۲۴ گھنٹے کے اندر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت دی ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر ان کے خلاف ضابطے کے تحت تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) میڈیکل کالج، بمنہ کے پرنسپل کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام ایسے سی آر ایم آئیز جو اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے رہے‘۲۴ گھنٹے کے اندر اپنی پوزیشن واضح کریں کہ ان کے خلاف قواعد کے تحت مناسب تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں یہ تصور کیا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کوئی وضاحت نہیں اور معاملے کو متعلقہ قواعد کے مطابق سختی سے نمٹایا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے میڈیکل انٹرنز گزشتہ پیر سے ہڑتال پر ہیں۔ وہ اپنے ماہانہ وظیفے کو۱۲۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
نوٹس کے مطابق ہڑتال کے باعث اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔
نوٹس میں نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے۱۸ نومبر۲۰۲۱ کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انٹرن شپ کے دوران اس طرح کی غیر حاضری ’’سنگین بدعنوانی اور پیشہ ورانہ بدسلوکی‘‘ کے زمرے میں آتی ہے، جس پر انٹرن شپ میں کمی، عارضی معطلی یا حتیٰ کہ انٹرن شپ منسوخ کرنے کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنز نے کالج میں داخلے کے وقت حلف نامے جمع کرائے تھے، جن میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، کالج کے تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے اور کسی بھی ہڑتال یا دیگر غیر منضبط سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا عہد کیا گیا تھا۔
دریں اثنا، شوکاز نوٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے عمر عبداللہ حکومت پر ہڑتالی میڈیکل انٹرنز کے معاملے میں ’’دوغلی پالیسی‘‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں التجا مفتی نے کہا، ’’کس کے کہنے پر ایس کے آئی ایم ایس بمنہ کے پرنسپل نے آج جائز وظیفے میں اضافے کا مطالبہ کرنے والے میڈیکل انٹرنز کے خلاف کارروائی شروع کی ہے؟ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور ہمیں پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ ایک معمولی سے حلف نامے کی بنیاد پر آپ انہیں دباؤ میں نہیں رکھ سکتے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’حکومت کا دوہرا معیار اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے چند گھنٹے قبل ہی دعویٰ کیا تھا کہ ان کا مسئلہ آج ہی حل ہوجائے گا، جبکہ اب مختلف میڈیکل کالجوں کے پرنسپلز کے ذریعے انہیں دھمکی آمیز خطوط جاری کیے جارہے ہیں۔‘‘
التجا مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ میڈیکل انٹرنز کا وظیفہ بڑھایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









