کشمیر میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی فلم فیسٹول کا انعقاد وادی کو عالمی فلمی نقشے پر ایک باقاعدہ مقام دلانے کی سمت اہم قدم ہے۔ ’رنگِ سینما‘ کے ذریعے دنیا بھر سے فلم ساز، پروڈیوسر، اداکار، تکنیکی ماہرین اور فلمی ناقدین کشمیر میں جمع ہوں گے۔ یہ اجتماع کشمیر کے لیے خود کو صرف ایک خوبصورت فلمی لوکیشن کے طور پر نہیں بلکہ فلم سازی کے لیے ایک مکمل اور سازگار منزل کے طور پر پیش کرنے کا موقع ہے۔
فلم اور کشمیر کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ بالی ووڈ نے وادی کے قدرتی حسن کو اپنی فلموں کا حصہ بنایا اور کشمیر کی جھیلوں، پہاڑوں، باغات اور برف پوش وادیوں نے پردۂ سیمیں پر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ ’کشمیر کی کلی‘ سے ’کبھی کبھی‘ تک اور ’ہائی وے‘ سے ’راضی‘ تک کئی فلموں نے کشمیر کو دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے پیش کیا۔ مگر اس پورے عرصے میں کشمیر زیادہ تر فلموں کا پس منظر رہا۔ اب پہلی مرتبہ اسے فلمی سرگرمیوں کا ایک فعال مرکز بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں۔ اگر دنیا بھر کے فلم ساز کشمیر میں آئیں، یہاں کی مقامی صلاحیتوں سے واقف ہوں، مقامی تکنیکی افراد کے ساتھ کام کریں اور یہاں فلمیں بنانے کے امکانات تلاش کریں تو اس کے اثرات محض چند فلموں کی شوٹنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ فلم سازی ایک ایسی صنعت ہے جس کے ساتھ درجنوں ذیلی شعبے وابستہ ہوتے ہیں۔ اداکاروں اور ہدایت کاروں کے علاوہ کیمرہ، ساؤنڈ، لائٹنگ، ایڈیٹنگ، میک اپ، پروڈکشن، لوکیشن مینجمنٹ اور دیگر شعبوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو کام ملتا ہے۔
اسی لیے اس فیسٹول کی اصل کامیابی اس بات سے طے نہیں ہوگی کہ اس میں کتنی فلمیں دکھائی گئیں یا کتنے بڑے نام شریک ہوئے، بلکہ اس سے ہوگی کہ اس کے بعد کتنے فلم ساز دوبارہ کشمیر آتے ہیں اور یہاں کتنے نئے منصوبے شروع ہوتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے فلم سازی کو ایک ’فلم اکانومی‘ میں تبدیل کرنے کا تصور اسی تناظر میں اہم ہے۔ کشمیر میں پہلے ہی باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں، لیکن انہیں عالمی سطح کے فلم سازوں اور صنعت سے جوڑنے کے مواقع محدود رہے ہیں۔ فیسٹول کے دوران ہونے والی ماسٹر کلاسز اور پینل مباحثے اس خلا کو کم کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر فلم سازی کے تکنیکی پہلوؤں پر توجہ نوجوانوں کو اداکاری سے آگے بڑھ کر ان شعبوں کی طرف لے جا سکتی ہے جو کسی بھی جدید فلمی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
مقامی فنکاروں، پروڈیوسروں اور فلم سازوں کو بین الاقوامی مندوبین کے سامنے پیش کرنا بھی اسی لیے قابلِ ذکر ہے۔ کشمیر کو دنیا کے سامنے صرف اپنے قدرتی حسن کی نمائش نہیں کرنی، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ یہاں کہانیاں لکھنے، فلمیں بنانے اور انہیں عالمی معیار کے مطابق پیش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس فیسٹول کا ایک بڑا فائدہ سیاحت کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ دنیا میں فلمیں کسی علاقے کی تشہیر کا انتہائی مؤثر ذریعہ رہی ہیں۔ کوئی شخص کسی خوبصورت مقام کو فلم میں دیکھتا ہے تو کئی مرتبہ اس کے دل میں وہاں جانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ کشمیر کے معاملے میں یہ امکان اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ وادی پہلے ہی اپنے قدرتی حسن کے باعث دنیا بھر میں معروف ہے۔
لیکن بین الاقوامی فلم فیسٹول اس تشہیر کو ایک نیا زاویہ دے سکتا ہے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے فلم ساز، صحافی، ناقدین اور مندوبین خود کشمیر دیکھیں گے، یہاں کے ثقافتی ورثے، کھانوں، دستکاری، موسیقی اور قدرتی مناظر سے واقف ہوں گے اور اپنے تجربات دنیا کے سامنے بیان کریں گے۔ یہ بالواسطہ تشہیر مستقبل میں غیر ملکی سیاحوں کی کشمیر آمد بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈل جھیل پر فلوٹنگ اسکرین کا تصور بھی اسی سلسلے میں ایک منفرد کشش بن سکتا ہے۔ اگر ایک سیاح شکارے میں بیٹھ کر جھیل کے درمیان فلم دیکھتا ہے تو یہ محض فلم دیکھنے کا تجربہ نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت، قدرت اور سینما کو ایک ساتھ محسوس کرنے کا موقع ہوگا۔ ایسے تجربات عالمی سطح پر کشمیر کی ایک نئی اور مثبت تصویر پیش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تاہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے فیسٹول کو سالانہ کیلنڈر کی ایک تقریب بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ اسے ایک طویل مدتی فلم پالیسی کا نقطۂ آغاز بنانا ہوگا۔ فلم سازوں کے لیے شوٹنگ کی اجازت کا آسان نظام، بہتر بنیادی ڈھانچہ، جدید آلات، پوسٹ پروڈکشن کی سہولیات، مقامی تکنیکی افراد کی تربیت اور فلم پروڈکشن کے لیے ایک سازگار ماحول ضروری ہے۔ اگر یہ اقدامات مسلسل جاری رہے تو کشمیر میں فلم سازی ایک باقاعدہ معاشی سرگرمی بن سکتی ہے۔
دنیا بھر میں فلمی صنعت نے کئی شہروں اور علاقوں کی معیشت اور عالمی شناخت تبدیل کی ہے۔ کشمیر کے پاس اس سفر کے لیے قدرتی مناظر کی وہ دولت پہلے ہی موجود ہے جسے کسی اسٹوڈیو میں تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔ اب ضرورت صرف اس دولت کو ایک پیشہ ورانہ فلمی ماحول سے جوڑنے کی ہے۔
’رنگِ سینما‘ اس سمت پہلا بڑا قدم ہے۔ کئی دہائیوں تک فلم ساز کشمیر آتے رہے، خوبصورت مناظر فلماتے رہے اور واپس چلے جاتے رہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر صرف فلموں میں دکھائی دینے والی جگہ نہ رہے بلکہ فلمیں بنانے والی جگہ بھی بنے۔
اگر یہ فیسٹول تسلسل، معیار اور واضح وژن کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں کشمیر کو تین بڑے فائدے حاصل ہو سکتے ہیں: عالمی فلمی شناخت، مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع اور بین الاقوامی سیاحت کا فروغ۔
یوں پہلی بین الاقوامی فلمی تقریب محض چار دن کا جشن نہیں رہے گی بلکہ کشمیر کے لیے ایک نئے سفر کی بنیاد بن سکتی ہے—ایسا سفر جس میں وادی کا قدرتی حسن، اس کی ثقافت اور اس کے نوجوانوں کا ہنر مل کر اسے دنیا کے فلمی نقشے پر ایک مستقل مقام دلائیں۔





