ہم تحریری یقین دہانی چاہتے تھے، لیکن وزیر نے اس سے اتفاق نہیں کیا/بات چیت جاری ہے ‘انٹرز جب چاہیں رابطہ کر سکتے ہیں :سکینہ
سری نگر/۴ستمبر
جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے وظیفے کے معاملے پر جمعہ کو تعطل برقرار رہا۔ احتجاج کرنے والے انٹرنز کے نمائندوں اور وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو کے درمیان ہونے والی ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی، جس کے بعد انٹرنز نے اپنی غیر معینہ مدت کی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
انٹرنز نے اپنے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے حوالے سے واضح اور تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم وفد میں شامل جی ایم سی اننت ناگ کے انٹرن ڈاکٹر ضامن جاوید کے مطابق وزیر نے وفد کو مطلوبہ تحریری یقین دہانی فراہم نہیں کی۔
ملاقات کے حوالے سے ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ معاملہ ایک ماہ کے اندر حل کرلیا جائے گا اور حکومت ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔تاہم انٹرنز کا اصرار تھا کہ یہ یقین دہانی تحریری شکل میں دی جائے۔
ڈاکٹر جاوید نے کہا، ’’ہم تحریری یقین دہانی چاہتے تھے، لیکن وزیر نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وزیر نے کہا کہ معاملے پر بات چیت جاری ہے اور انٹرنز جب چاہیں ان سے رابطہ کرسکتے ہیں۔یوں ملاقات کسی ایسے معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی جو انٹرنز کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرسکتا۔
انٹرنز کا مطالبہ ہے کہ ان کا ماہانہ وظیفہ موجودہ۱۲ہزار۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کیا جائے۔ انہوں نے مہنگائی، طویل اوقاتِ کار، ہنگامی ڈیوٹیوں اور سرکاری اسپتالوں میں عائد ذمہ داریوں کے باوجود کئی برس سے وظیفے میں اضافہ نہ ہونے کے خلاف۳۱؍ اگست سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔
حکومت اس مطالبے کو پہلے ہی تسلیم کرچکی ہے۔ وزیر صحت سکینہ ایتو نے بھی انٹرنز کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے تجویز محکمہ خزانہ کے زیرِ غور ہے۔ تاہم انہوں نے مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر انٹرنز سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ معاملہ ’’زیرِ عمل‘‘ ہونے کی یقین دہانی اب کافی نہیں، خصوصاً اس لیے کہ سابقہ سفارشات اور متعدد نمائندگیوں کے باوجود یہ معاملہ بدستور زیرِ التوا ہے۔
ڈاکٹر جاوید نے واضح کیا کہ محض ایک اور زبانی یقین دہانی کی بنیاد پر انٹرنز ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا، ’’ہم اپنے مسئلے کے حل تک ہڑتال جاری رکھیں گے۔‘‘
انٹرنز کے ہڑتال پر رہنے کا مطلب ہے کہ ان طبی اداروں میں کلینیکل خدمات بدستور متاثر رہیں گی جہاں انٹرنز نے معمول کی ڈیوٹیاں چھوڑ دی ہیں۔ جی ایم سی سری نگر سے پہلے ہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وارڈز، ایمرجنسی اور دیگر کلینیکل شعبوں میں انٹرنز کی عدم موجودگی کے باعث پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں پر کام کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ غیر معینہ مدت تک محاذ آرائی نہیں چاہتے بلکہ ایسا باضابطہ فیصلہ چاہتے ہیں جس سے ان کے نظرثانی شدہ وظیفے کے بارے میں صورتحال واضح اور یقینی ہوجائے۔تاہم فی الحال بات چیت تعطل ختم کرنے میں ناکام رہی ہے اور انٹرنز نے واضح کردیا ہے کہ ان کے مطالبے کے حل کے بغیر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









