سری نگر/۴ستمبر
انوائرمنٹل پالیسی گروپ(ای پی جی )نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری سے گوریول ریوائن کے تحفظ اور فوری قانونی حفاظت کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
گوریول ریوائن غیر معمولی ارضیاتی اور قدیم حیاتیاتی اہمیت کا حامل مقام ہے، جسے جیولوجیکل سروے آف انڈیا(جی ایس آئی ) نے قومی اہمیت کے جیو ہیریٹیج سائٹ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
چیف سیکریٹری کو ارسال کیے گئے ایک باضابطہ مراسلے میں جی پی جی نے جی ایس آئی کی۱۷ دسمبر۲۰۲۵ کی مراسلت کے تحت حکومت کی جانب سے گوریول-کھنموہ-مندیک پال فوسل لینڈ اسکیپ کے تحفظ اور ضروری نوٹیفکیشن کے اجرا کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کی صورتحال طلب کی ہے۔
گروپ نے جی ایس آئی کی اگست ۲۰۲۶ کی مراسلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جی ایس آئی اور ضلعی انتظامیہ نے۱۲ مارچ۲۰۲۶ کو مقام کے تحفظ اور ترقی کے لیے مشترکہ معائنہ کیا تھا۔ جی ایس آئی کے مطابق گوریول ریوائن داچھی گام نیشنل پارک کے ایکو سینسیٹو زون(ای ایس زیڈ)میں واقع ہے اور اسے فوری قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت جموں و کشمیر کی جانب سے مطلوبہ نوٹیفکیشن کا انتظار ہے۔
ای پی جی نے گوریول ریوائن کے قرب و جوار میں کھنموہ انڈسٹریل اسٹیٹ سے متعلق مبینہ تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا جاری یا مجوزہ سرگرمیوں سے جیو ہیریٹیج سائٹ کی ارضیاتی اور قدیم حیاتیاتی خصوصیات متاثر یا نقصان زدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
گروپ نے مطالبہ کیا کہ گوریول ریوائن کی حدود کا سائنسی سروے اور زمینی سطح پر باقاعدہ حد بندی کی جائے، جبکہ جی ایس آئی کی جانب سے مذکورہ مارکر پلرز کی تنصیب کی صورتحال بھی واضح کی جائے۔ اس کے علاوہ جی ایس آئی ‘ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں پر مشتمل ایک تازہ مشترکہ معائنہ کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ صنعتی علاقے میں جاری سرگرمیوں اور جیو ہیریٹیج سائٹ کے درمیان ممکنہ اثرات کا درست تعین کیا جا سکے۔
ای پی جی نے حکومت سے ماحولیاتی اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، کیونکہ یہ مقام ڈچی گام نیشنل پارک کے ایکو سینسیٹو زون میں آتا ہے۔
گروپ نے کہا کہ گوریول ریوائن کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ اسے ارضیاتی سیاحت، سائنسی تحقیق اور تعلیم کے بڑے مرکز میں تبدیل کرنے کا موقع بھی ہے۔ مناسب تحفظ، سائنسی بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دارانہ سیاحتی منصوبہ بندی کے ذریعے یہ مقام بین الاقوامی سیاحوں، ماہرین ارضیات، قدیم حیاتیات کے ماہرین، سائنس دانوں، محققین اور طلبہ کے لیے اہم منزل بن سکتا ہے۔
ای پی جی نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں فوسل اور قدیم حیاتیاتی مقامات کو سائنسی تحفظ کے ساتھ سیاحتی اور تعلیمی مراکز کے طور پر ترقی دی گئی ہے، جس سے ارضیاتی ورثے کی معاشی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔
گروپ نے خبردار کیا کہ غیر منصوبہ بند ترقی کے نتیجے میں گوریول ریوائن کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔ ای پی جی نے مطالبہ کیا کہ سائٹ کی حدود، تحفظ کی ضروریات اور ترقیاتی سرگرمیوں کے ممکنہ اثرات کا مکمل جائزہ لیے جانے تک ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے جو اس کے ارضیاتی یا قدیم حیاتیاتی ورثے کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










