سری نگر/۴ستمبر
کشمیر کے ضلع بڈگام کے ایک جنگلاتی علاقے میں جمعہ کے روز فوج اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی اس اطلاع کی بنیاد پر شروع کی گئی کہ دہشت گرد وں کا ایک مشتبہ گروپ ضلع پلوامہ کے پاکھرپورہ سے یوسمرگ، بڈگام کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
سری نگر میں قائم چنار کور نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف نے بڈگام کے اشدر گلی میں مشترکہ تلاشی کارروائی شروع کی۔
چوکنا دستوں نے مشتبہ سرگرمی دیکھی اور جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا اور ایک اے کے رائفل برآمد کی گئی۔ تلاشی کارروائی جاری ہے۔‘‘
حکام کے مطابق کارروائی جاری ہے کیونکہ فورسز ایک اوردہشت گرد کی تلاش کر رہی ہیں، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اسی علاقے میں چھپا ہوا ہے۔
ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔وادی میں کئی ماہ کے وقفے کے بعد یہ جھڑپ ہوئی ہے۔
اس سے پہلے فورسز نے جمعہ کی صبح ضلع بڈگام کے بالائی علاقوں میں تلاشی اور سرچ آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا، جبکہ سکیورٹی فورسز نے پیر پنجال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں تلاشی کارروائی مزید تیز کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن تقریباً۱۵ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع جنگلاتی علاقے میں کیا جا رہا ہے، جو بڈگام،پونچھ سرحد کے قریب ہے۔ دشوار گزار اور ناہموار علاقے کے باعث سکیورٹی فورسز کے لیے تلاشی کارروائی خاصی چیلنجنگ بنی ہوئی ہے۔
یہ علاقہ پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے ساتھ واقع ہے، جو وادیٔ کشمیر کو پونچھ-راجوری خطے سے ملاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جمعرات کی شام علاقے میں گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات ملنے پر مشترکہ سکیورٹی فورسز نے محاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا۔
رات کے وقت آپریشن روک دیا گیا تھا، جسے جمعہ کی صبح دوبارہ شروع کیا گیا۔ فورسز نے مشتبہ علاقے کے گرد سخت محاصرہ برقرار رکھتے ہوئے تلاشی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آپریشن میں مدد کے لیے مزید سکیورٹی اہلکاروں کو بھی علاقے میں منتقل کیا گیا ہے۔
اس دوران جموں و کشمیر کے ضلع سانبہ کے سرحدی علاقوں میں پولیس نے جمعہ کو سکیورٹی مضبوط بنانے اور نگرانی کا دائرہ وسیع کرنے کے مقصد سے بی ایس ایف کے ساتھ مشترکہ تلاشی اور علاقے پر غلبہ قائم رکھنے کی کارروائی انجام دی۔
یہ کارروائی ریگل گاؤں سے شروع ہو کر چلّیریاں، نڈالا اور پلورا تک جاری رہی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے مختلف علاقوں اور مقررہ راستوں پر مکمل تلاشی لی جبکہ حساس اور کمزور مقامات پر اپنی موجودگی بھی یقینی بنائی۔
کارروائی کے دوران پولیس اور بی ایس ایف پر مشتمل ایک خصوصی مشترکہ ٹیم کو ایک اہم تزویراتی مقام پر تعینات کیا گیا۔ ٹیم کی نگرانی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سانبہ، اسپیشل آپریشنز گروپ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور بی ایس ایف کے ایک انسپکٹر نے کی۔
مختلف چیک پوسٹوں پر تعینات افسران نے گاڑیوں اور ان میں سوار افراد کی تفصیلی جانچ کی اور پوری کارروائی کے دوران سخت چوکسی برقرار رکھی۔
اس مشق کے ایک حصے کے طور پر پولیس اہلکاروں نے مقامی لوگوں سے بھی بات چیت کی اور انہیں سکیورٹی برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے عوامی تعاون کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
پولیس نے مقامی باشندوں کو پولیس کے رابطہ نمبرز، بشمول پولیس کنٹرول روم سانبہ اور ایس او جی سانبہ، فراہم کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، گاڑی یا غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سانبہ انوج کمار نے کہا کہ اس مشترکہ کارروائی کا مقصد سکیورٹی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا، مختلف ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری بہتر کرنا، پولیس کی موجودگی میں اضافہ کرنا اور مقامی آبادی میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی ہر قابلِ اعتبار اطلاع کا فوری جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










