جنیوا،4ستمبر (یو این آئی) ال نینو آب و ہوا کا رجحان تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے اور یہ اب تک کے سب سے طاقتور واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔ اس سے 2027 کے آغاز تک دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، سیلاب، قحط سالی اور دیگر شدید موسمی واقعات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔
اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق، ال نینو کے اس سال کے آخر تک ’بہت مضبوط‘ سطح پر پہنچنے اور انتہا پر ہونے کا امکان ہے۔ فروری 2027 تک اس کے برقرار رہنے کا امکان اب تقریباً 100 فیصد ہے۔ ڈبلیو ایم او نے اسے ال نینو یا اس کے سرد پیٹرن لا نینا کے حوالے سے اب تک کا سب سے واضح اندازہ قرار دیا ہے۔
ال نینو کی مضبوطی کی بنیادی وجہ ٹراپیکل بحرِ الکاہل کا غیر معمولی طور پر گرم ہونا ہے۔ سمندر کی سطح کے نیچے بھی گرم پانی کا غیر معمولی طور پر بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے۔ بحرِ الکاہل کے کچھ حصوں میں جولائی اور اگست کے آغاز میں درجہ حرارت معمول سے آٹھ ڈگری سیلسیس سے بھی زیادہ رہا۔
اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا، ”ال نینو ہماری آنکھوں کے سامنے غیر معمولی طور پر بڑا ہو رہا ہے۔ سائنس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارا سیارہ نا معلوم پانیوں میں پہنچ گیا ہے اور یہ پانی مسلسل گرم ہو رہے ہیں۔“ پیش گوئی کرنے والوں کے مطابق ستمبر سے نومبر کے درمیان زمین کی تقریباً پوری سطح پر معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہ سکتا ہے۔
بارش کے پیٹرن میں بھی بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے، جس سے کچھ علاقوں میں بھاری بارش اور سیلاب نیز دیگر علاقوں میں قحط سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے کہا کہ پہلے سے غیر معمولی طور پر گرم سمندر اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے گرم ہو چکا ماحول ان اثرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے یہ ثابت نہیں کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خود ال نینو کو زیادہ طاقتور بنا رہی ہے، لیکن گرم ماحول اور سمندر شدید موسم کو فروغ دینے والی گرمی اور نمی کو بڑھا سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او کی سکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا کہ ال نینو کا مطلب ہسپانوی زبان میں ‘چھوٹا لڑکا’ ہے، لیکن اس کا دنیا بھر کی برادریوں اور معیشتوں پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قحط سالی اور سیلاب سے ہونے والا نقصان پہلے ہی دکھائی دے رہا ہے اور ال نینو کے مضبوط ہونے کے ساتھ اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔









