ماسٹر پلانز میں منصوبہ بند ترقی، کاروبار میں آسانی اور ماحولیاتی تحفظ پر زور‘ حتمی شکل دیتے وقت منصوبہ بند شہری ترقی کا بھی احاطہ کیا جائے
سری نگر، 3 ستمبر:
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے۹۱ ویں اور سری نگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے۸۵ ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز اجلاسوں کی صدارت کی، جن میں جموں اور سری نگر کے ماسٹر پلانز میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔
چیئرمین ایس ڈی اے شبیر حسین بھٹ اور چیئرمین جے ڈی اے روپیش کمار نے مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے الگ الگ پریزنٹیشنز پیش کیں۔
اجلاس میں مجوزہ ترامیم، عوامی آرا، ضابطہ جاتی تقاضوں اور منصوبہ بند و پائیدار شہری ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سری نگر کے حوالے سے اجلاس میں ٹاؤن پلاننگ اسکیمز، ڈل، نگین اور دیگر آبی ذخائر کے تحفظ، جموں و کشمیر یونیفائیڈ بلڈنگ بائی لاز۲۰۲۱سے ہم آہنگی اور زمین کے استعمال کی زوننگ اور تعمیراتی اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنانے سے متعلق اصلاحات پر غور کیا گیا۔
نظرثانی شدہ جموں ماسٹر پلان۲۰۳۲ کے تحت۱۵ پلاننگ زونز، زمین کے استعمال کی مختلف کیٹیگریز کو منطقی شکل دینے، جیو ریفرنسڈ میپنگ اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ماسٹر پلان کی دستاویز میں شامل کرنے کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔
اس کے علاوہ ماحولیاتی اور ورثے کے تحفظ سے متعلق اقدامات، جن میں دریائے توی کے دریا بستر اور آبی گزرگاہوں کا تحفظ شامل ہے، پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے مجوزہ ماسٹر پلانز کو حتمی شکل دیتے وقت منصوبہ بند شہری ترقی، کاروبار میں آسانی کے لیے اصلاحات، عوامی خدشات کے ازالے اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اور شہری دباؤ کو کم کرنے کے لیے۲۱ بڑے سرکاری دفاتر کو سری نگر سے باہر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ تجویز ماسٹر پلان سرینگر۲۰۳۵کا حصہ ہے۔
بڑے سرکاری دفاتر کی منتقلی کو شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور توسیع کے پیش نظر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ماسٹر پلان کے مطابق۲۰۳۵ تک سری نگر کا تعمیر شدہ رقبہ تقریباً دوگنا ہو کر۷۶۶ مربع کلومیٹر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ شہر کی آبادی۱۲ لاکھ سے بڑھ کر۳۰ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ماسٹر پلان سرینگر۲۰۳۵کو ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن کشمیر نے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کو۱۳ فروری۲۰۱۹ کو اُس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک کی سربراہی میں قائم اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو کونسل نے منظوری دی تھی۔
اس کے بعد محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ نے۷ مارچ۲۰۱۹کو ماسٹر پلان کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکریٹری اتل ڈلو، وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، اے سی ایس فنانس شیلندر کمار، اے سی ایس پی ڈبلیو ڈی انیل کمار سنگھ، کمشنر سیکریٹری پلاننگ، مانیٹرنگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ایلس واز، کمشنر سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ مندیپ کور، جموں و کشمیر کے ڈویژنل کمشنرز، کمشنر سیکریٹری قانون، جموں اور سری نگر کے ڈپٹی کمشنرز، سری نگر میونسپل کارپوریشن اور جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنرز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
جموں میں تعینات افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
(ڈی آئی پی آر )۔۔۔۔۔









