(سرینگر؍۳ستمبر)
تہاڑ جیل سے ایک حیران کن پیش رفت میں کالعدم دہشت گرد تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ اور علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں سزائے موت کا سامنا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے مقدمے کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اپنی پاکستانی اہلیہ مشعال حسین ملک سے طلاق لینے کا فیصلہ بھی ظاہر کیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق2019 سے تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک نے بدھ کے روز اپنے وکیل ابو عادل پنڈت کے ذریعے سری نگر کی ایڈیشنل سیشنز عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل تحریری بیان جمع کرایا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 19 ستمبر کو مقرر کی ہے۔
اپنے بیان میں ملک نے کہا کہ وہ کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں جاری کارروائی کو مزید چیلنج نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے سے دستبرداری کو جرم کے اعتراف کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق ملک نے دعویٰ کیا کہ انہیں سیاسی حالات کے باعث جھوٹے طور پر مقدمے میں پھنسایا گیا، تاہم انہوں نے یہ فیصلہ کافی غور و فکر کے بعد اور ’’استخارہ‘‘ کرنے کے بعد کیا ہے، جو کسی اہم فیصلے سے قبل کی جانے والی اسلامی دعا ہے۔ملک نے عدالت سے کہا، ’’میں اب مقدمہ نہیں لڑوں گا اور میرے لیے سزائے موت پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ملک نے اس نوعیت کا موقف اختیار کیا ہو۔ مئی 2022 میں دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمے میں مجرم قرار دیے جانے کے وقت بھی انہوں نے الزامات کا دفاع کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ این آئی اے اس کے بعد سے ان کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اسی حلف نامے میں ملک نے پاکستانی فنکارہ اور کارکن مشعال حسین ملک کے ساتھ اپنی 16 سالہ ازدواجی زندگی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ دونوں نے 2009 میں شادی کی تھی اور ان کی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ ہے۔
مشعال 2023 سے 2025 تک پاکستان کی نگران حکومت میں انسانی حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق خصوصی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
این ڈی ٹی وی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک نے لکھا کہ گزشتہ آٹھ برس سے انہیں جیل میں اپنی اہلیہ سے فون پر بات کرنے یا ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی وہ اپنے خاندان سے رابطہ کر سکے ہیں۔ مشعال کے نام ایک جذباتی پیغام میں انہوں نے لکھا، ’’میں نے یہ فیصلہ بہت دکھ کے ساتھ کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ مشعال اپنی پوری زندگی اس صورت حال کا بوجھ اٹھاتے ہوئے یا بیوہ کی طرح زندگی گزارتے ہوئے گزار دے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ عزت اور امید کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کرے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق اپنی بیٹی کے لیے بھی ملک نے ایک جذباتی اپیل کی۔ انہوں نے رضیہ سے کہا کہ وہ اپنی دادی، یعنی ملک کی والدہ، کا خیال رکھے اور روزانہ کم از کم پانچ منٹ ان سے بات کرے تاکہ اس مشکل وقت میں انہیں خاندان کی حمایت کا احساس ہوتا رہے۔ انہوں نے خاندان سے دور رہنے اور ان کے ساتھ وقت نہ گزار پانے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
سرلا بھٹ سری نگر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) میں بطور اسٹاف نرس خدمات انجام دینے والی کشمیری پنڈت خاتون تھیں، جنہیں وادی میں عسکریت پسندی کے عروج کے دوران اپریل 1990 میں اغوا کر لیا گیا تھا۔ چند روز بعد ان کی لاش برآمد ہوئی۔ ان کے قتل نے کشمیری پنڈت برادری میں خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت کو مزید گہرا کر دیا تھا اور یہ مقدمہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک سرد خانے میں پڑا رہا۔
2025 میں ریاستی پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے اس کیس کو دوبارہ کھولا اور ملک سمیت دیگر ملزمان سے منسلک مقامات پر چھاپے مارے۔ چارج شیٹ میں یاسین ملک، خورشید احمد چلکو، عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کو نامزد کیا گیا۔
چلکو تاحال مفرور ہے، جبکہ صوفی، شیخ اور ٹپلو انتقال کر چکے ہیں، جس کے باعث یاسین ملک اس مقدمے میں اہم زندہ ملزم رہ گئے ہیں۔ وہ اس وقت تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور جموں میں ایک الگ قتل کیس کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










