سرینگر؍۳ستمبر
ہر سال۵ ستمبر کو پورے بھارت میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر تعلیمی اداروں میں معمول کی تدریسی سرگرمیوں سے ہٹ کر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور ان شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جو نئی نسل کو زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے کا اہم، مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا، فریضہ انجام دیتی ہیں۔
اس دن اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، اساتذہ کو تحائف پیش کیے جاتے ہیں اور طلبہ اپنے اساتذہ کے لیے تشکر اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہر سال۵ ستمبر ہی کو یومِ اساتذہ کیوں منایا جاتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ۵ستمبر ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی یومِ پیدائش ہے۔ وہ ایک ممتاز فلسفی، دانشور اور مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد بھی تھے۔
ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن۵ستمبر۱۸۸۸کو سابق مدراس پریزیڈنسی کے علاقے تروتّانی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے۱۹۰۹تک مدراس کرسچن کالج سے گریجویشن اور ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے یونیورسٹی آف میسور اور یونیورسٹی آف کلکتہ سمیت کئی معروف جامعات میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔
تقابلی مذاہب اور فلسفے پر ان کی علمی کاوشوں نے مغربی دنیا میں ہندوستانی فلسفے کے تعارف میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی علمی مقام کے باعث انہیں یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں اسپالڈنگ پروفیسرشپ آف ایسٹرن ریلیجنز اینڈ ایتھکس بھی سونپی گئی۔ رادھا کرشنن تعلیم کو معاشرے میں مثبت اور بامعنی تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔
ان کا ایک معروف قول ان کے تعلیمی فلسفے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے’’تعلیم کا مقصد صرف معلومات کا حصول نہیں، اگرچہ معلومات اہم ہیں، اور نہ ہی صرف فنی مہارتوں کا حصول، اگرچہ جدید معاشرے میں یہ ضروری ہیں؛ بلکہ تعلیم کا مقصد ذہن کی ایسی ساخت، عقل و استدلال کی ایسی روش اور جمہوری جذبے کی ایسی روح پیدا کرنا ہے جو ہمیں ذمہ دار شہری بنائے۔‘‘
ڈاکٹر رادھا کرشنن نے۱۹۵۲ سے۱۹۶۲ تک بھارت کے پہلے نائب صدر اور۱۹۶۲ سے۱۹۶۷سے تک دوسرے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
۵ستمبر۱۹۶۲ کو ان کی۷۵ ویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب انہیں صدرِ بھارت کا منصب سنبھالے چند ہی ہفتے ہوئے تھے۔ تاہم رادھا کرشنن نے اپنی سالگرہ کو ذاتی تقریب کے طور پر منانے کے بجائے اسے ملک بھر کے اساتذہ کے اعزاز میں یومِ اساتذہ کے طور پر منانے کی تجویز دی۔ اسی کے بعد ہر سال۵ ستمبر کو بھارت میں یومِ اساتذہ منایا جانے لگا۔
ہر سال۵ ستمبر کو صدرِ بھارت ملک کے نمایاں اساتذہ کو قومی اعزازات سے نوازتے ہیں۔ ان اعزازات کے ذریعے ان اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور عزم سے نہ صرف اسکولی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا بلکہ اپنے طلبہ کی زندگیوں پر بھی مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
اگرچہ بھارت میں یومِ اساتذہ۵ ستمبر کو منایا جاتا ہے، تاہم عالمی یومِ اساتذہ ہر سال۵؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔۵؍اکتوبر کی تاریخ۱۹۶۶میں اس وقت کی گئی اس اہم پیش رفت کی یاد دلاتی ہے جب اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو نے بین الاقوامی مزدور تنظیم آئی ایل او کے تعاون سے اساتذہ کی حیثیت سے متعلق سفارشات منظور کیں۔
اس سفارش میں اساتذہ کے حقوق اور ذمہ داریوں کے حوالے سے بنیادی معیارات مقرر کیے گئے۔ اس میں اساتذہ کی تربیت اور مسلسل پیشہ ورانہ تعلیم، بھرتی، ملازمت اور تدریس و تعلم کے حالات سے متعلق اصول شامل تھے۔
عالمی یومِ اساتذہ کا مقصد اساتذہ کے حقوق اور پیشہ ورانہ حیثیت کے تحفظ کو اجاگر کرنا اور نوجوانوں کو تدریس کے شعبے سے وابستہ ہونے کی ترغیب دینا بھی ہے۔
یوں بھارت کا۵ستمبر کا یومِ اساتذہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی تعلیمی خدمات اور استاد کے مقام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، جبکہ۵؍ اکتوبر کا عالمی یومِ اساتذہ دنیا بھر میں اساتذہ کے حقوق، حیثیت اور خدمات کو اجاگر کرنے کا دن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










