نیویارک، 3 ستمبر (یواین آئی) دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز اور عالمی نمبر ایک آرینا سبالینکا نے بدھ کو مختلف انداز میں یو ایس اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں جگہ بنا لی۔ دوسری سیڈ الکاراز نے ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا سیٹ گنوانے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے پرتگال کے جیمے فاریہ کو 4-6، 6-0، 6-3، 6-2 سے شکست دی۔
دائیں کلائی کی چوٹ کے باعث چار ماہ تک ٹینس سے دور رہنے کے بعد واپسی کرنے والے 23 سالہ اسپینش کھلاڑی نے سست آغاز سے نکلتے ہوئے مسلسل آٹھ گیم جیتے اور میچ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ اس کامیابی کے ساتھ گرینڈ سلیم مقابلوں میں ان کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ 16 میچوں تک پہنچ گیا۔ کلائی کی چوٹ کے باعث وہ فرنچ اوپن اور ومبلڈن میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔
الکاراز سے تین ماہ چھوٹے فاریہ نے پہلے سیٹ میں 4-3 کی برتری حاصل کی اور عمدہ سروس کے ذریعے برتری برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم اپنی سروس گنوانے کے بعد الکاراز کو احساس ہوا کہ وہ میچ جلد ختم کرنے کی کوشش میں بہت عجلت سے کھیل رہے تھے۔
الکاراز نے کہا، ’’سچ کہوں تو میں جلدی جیتنا چاہتا تھا، میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ چار سیٹ کھیلنا میرے لیے جسمانی طور پر خود کو پرکھنے کے لیے بہت اچھا رہا۔ اپنے جسم کو آزمانا اور یہ دیکھنا کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں، اہم تھا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اس کے بعد میں نے صرف توجہ مرکوز رکھنے اور پرسکون رہنے کی کوشش کی۔ مجھے لگتا ہے کہ آگے بھی سب کچھ اچھا رہے گا۔‘‘
چین کے بو یون چاؤ کیٹ اور وو یی بِنگ بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ گئے، جبکہ وانگ شِن یو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بو نے پہلے راؤنڈ میں اسپین کے 12ویں سیڈ رافیل جودار کو 6-2، 6-1، 6-1 سے شکست دے کر اپنے کیریئر کی پہلی گرینڈ سلیم مین ڈرا کامیابی حاصل کی تھی۔ آسٹریلیا کے تھاناسی کوکیناکس کے انجری کے باعث دستبردار ہونے کے بعد بو نے ’لکی لوزر‘ کے طور پر مین ڈرا میں جگہ بنائی تھی۔
بو نے کہا کہ بارش کے باعث مقابلہ مشکل ہوگیا تھا، لیکن انہوں نے توجہ برقرار رکھتے ہوئے اپنی توانائی بچائی اور کسی بھی وقت واپسی کے لیے تیار رہے، جس پر وہ خوش ہیں۔
مردوں کے دوسرے راؤنڈ میں وو یی بِنگ نے آسٹریلیا کے جیمز ڈک ورتھ کو 7-5، 6-3، 6-1 سے شکست دے کر اپنے کیریئر میں دوسری مرتبہ آخری 32 کھلاڑیوں میں جگہ بنائی۔ وو نے کہا کہ انہوں نے میچ کے لیے مکمل تیاری کی تھی اور پورے مقابلے میں اپنی رفتار اور توجہ برقرار رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ فارم اچھا نہ ہونے کے باوجود وہ بغیر ٹیکنیکل کوچ، فٹنس ٹرینر اور فزیوتھراپسٹ کے یو ایس اوپن میں آئے ہیں۔
روس کے ساتویں سیڈ ڈانیل میدویدیف نے امریکہ کے وائلڈ کارڈ کھلاڑی سیبسٹین گورژنی کو 6-1، 6-3، 7-5 سے شکست دی، جبکہ آٹھویں سیڈ بین شیلٹن نے پولینڈ کے ہوبَرٹ ہرکاز کو 6-3، 5-7، 7-6 (3)، 7-5 سے ہرا دیا۔
خواتین کے سنگلز میں ٹاپ سیڈ سبالینکا نے روس کی کوالیفائر پولینا یاتسینکو کو صرف 53 منٹ میں 6-1، 6-1 سے شکست دے کر تیسرے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ سرینا ولیمز کے بعد مسلسل تین یو ایس اوپن ٹائٹل جیتنے والی پہلی خاتون بننے کی کوشش میں مصروف سبالینکا نے پہلے سیٹ میں 24 ونرز لگائے اور اپنی سروس پر صرف چار پوائنٹس گنوائے۔
21ویں سیڈ آنا کالینسکایا نے چین کی وانگ شِن یو کو 7-5، 2-6، 6-3 سے شکست دی۔ وانگ نے کہا کہ پہلے سیٹ میں شکست اس لیے مایوس کن تھی کیونکہ وہ حملہ کرنے میں ہچکچا رہی تھیں، تاہم دوسرے سیٹ میں انہوں نے بہتر کھیل پیش کیا۔ ان کے مطابق شمالی امریکہ کے ٹینس سیزن کے دوران کھیلے گئے متعدد میچوں سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
تیسری سیڈ جیسیکا پیگولا نے 2020 کی آسٹریلین اوپن چیمپئن صوفیا کینن کو صرف 56 منٹ میں 6-3، 6-1 سے شکست دی، جبکہ ساتویں سیڈ کیرولینا موخووا نے کیٹی بولٹر کو 6-1، 6-0 سے باآسانی ہرا کر اگلے راؤنڈ میں جگہ بنالی۔



