سری نگر؍۲۶؍اگست
کشمیر میں سیب کے باغات کے قریب رہنے والے تقریباً۹۰ فیصد گھر ایسے ہیں جن کے اور کیڑے مار ادویات سے متاثرہ باغات کے درمیان کوئی حفاظتی فاصلہ یا بفر زون موجود نہیں، جس کے باعث مکینوں کو اسپرے کے دوران کیمیکلز کے ہوا کے ذریعے گھروں تک پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔
یہ تحقیق انٹرنیشنل جرنل آف سوشل امپیکٹ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے دوران وادی کشمیر کے تمام۱۰ اضلاع کے۵۰۹ گھرانوں کا سروے کیا گیا اور کیڑے مار ادویات سے متاثر ہونے کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے ’’ریزیڈینشل پراکسیمی انڈیکس‘‘ تیار کیا گیا۔
اس انڈیکس میں باغات سے گھروں کا فاصلہ، حفاظتی بفر زون کی موجودگی، کیڑے مار ادویات کو رکھنے اور تلف کرنے کے طریقے، ادویات کی زہریلی نوعیت کے بارے میں آگاہی اور اسپرے کے بعد صحت سے متعلق علامات سمیت چھ عوامل کو شامل کیا گیا۔(بقیہ پہلے کیمنٹ بکس میں دیکھیں )
تحقیق کے مطابق سروے میں شامل۴۱ء۰۶ فیصد گھر سیب کے باغات سے۲۰۰ میٹر کے اندر واقع تھے۔ محققین کے مطابق اتنا کم فاصلہ ہونے کی صورت میں اسپرے کے دوران کیڑے مار ادویات کے ہوا کے ذریعے رہائشی علاقوں تک پہنچنے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں،۸۸ء۸۰فیصد گھروں اور باغات کے درمیان کوئی حفاظتی بفر زون موجود نہیں تھا۔
تحقیق میں بڑی تعداد میں گھرانوں کی جانب سے کیڑے مار ادویات کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنے اور تلف کرنے کا بھی انکشاف ہوا۔۷۰فیصد سے زیادہ افراد نے بتایا کہ وہ کیڑے مار ادویات کے پیکٹ، ڈبے اور بچ جانے والی ادویات کھلے میں، زیادہ تر باغات کے قریب، پھینک دیتے ہیں۔ جبکہ۴۵ء۳۸ فیصد گھرانوں نے بتایا کہ وہ کیڑے مار ادویات گھروں کے رہائشی حصوں میں محفوظ رکھتے ہیں۔
ریزیڈینشل پراکسیمی انڈیکس کی بنیاد پر تقریباً ایک چوتھائی گھرانوں کو زیادہ خطرے والے زمرے میں رکھا گیا، جبکہ نصف سے زیادہ گھرانے درمیانے درجے کے خطرے میں پائے گئے۔ کم خطرے والے گھرانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اس طرح سروے میں شامل تقریباً تین چوتھائی گھرانے کیڑے مار ادویات سے درمیانے سے زیادہ درجے کے خطرے سے دوچار پائے گئے۔
تحقیق کے مطابق۵۵ء۰۱ فیصد افراد نے کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے بعد صحت سے متعلق علامات ظاہر ہونے کی اطلاع دی، جبکہ۶۱ء۳۰ فیصد افراد کو کیڑے مار ادویات سے صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں کم یا درمیانے درجے کی معلومات تھیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں باغبانی کے زیرِ کاشت رقبے میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ہارٹیکلچر کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ باغبانی کا رقبہ۱۹۷۰۔۷۱میں۴۸ ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر۲۰۲۲میں۲لاکھ۱۲ ہزار ہیکٹر ہوگیا۔ سیب کی کاشت خطے میں کیڑے مار ادویات کے استعمال کا سب سے بڑا حصہ ہے، جو مجموعی استعمال کا۸۳ فیصد ہے۔
تحقیق کے مطابق سیب کی کاشت میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات میں فنجی سائیڈز کا حصہ۷۱ء۱فیصد، انسیکٹی سائیڈز کا۱۵ء۴فیصد اور ایکری سائیڈز کا۷ء۷فیصد ہے۔
کشمیر کے باغات میں عام طور پر کلورپائریفوس، مینکوزیب اور کیپٹن کے علاوہ ڈائیتھین، ڈائیمتھیویٹ، کاربوکسین، مصنوعی پائریتھرائیڈز اور اینڈوسلفان جیسی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ محققین کے مطابق ان میں سے بعض کیمیکلز کو سرطان کا باعث بننے والے مادوں کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔
میدانی علاقوں کے زرعی خطوں کے برعکس، جہاں عام طور پر کھیت اور رہائشی بستیاں ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں، کشمیر کے پہاڑی جغرافیے میں سیب کے باغات اکثر گھروں کے بالکل قریب واقع ہیں۔ اس وجہ سے باغبانی سے براہِ راست وابستہ نہ ہونے والے افراد بھی اسپرے کے دوران کیڑے مار ادویات کے اثرات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
محققین نے رہائشی علاقوں کے اطراف مختلف اقسام کی گھنی نباتات پر مشتمل حفاظتی بفر زون قائم کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ہوا کے ساتھ آنے والے کیڑے مار ادویات کے اثرات کو روکا جاسکے۔ انہوں نے اسپرے کے بعد چند دنوں کے لیے متاثرہ علاقوں کو عارضی طور پر ’’نو انٹری زون‘‘ قرار دینے کی بھی تجویز دی۔
تحقیق میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ اسپرے کے دوران دروازے اور کھڑکیاں بند رکھی جائیں اور باغات کے قریب نئی تعمیرات کی منصوبہ بندی کرتے وقت کیڑے مار ادویات سے لاحق خطرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
تحقیق کے مطابق پہلے سے کیڑے مار ادویات سے متاثرہ باغات کے قریب رہنے والی بڑی آبادی کو منتقل کرنا عملی حل نہیں، اس لیے حفاظتی بفر زون، کیڑے مار ادویات کے محفوظ استعمال اور عوامی آگاہی میں اضافہ فوری ترجیحات ہونی چاہئیں۔
محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں جغرافیائی نقشہ سازی، ماحولیاتی نگرانی اور مٹی، پانی، خوراک، خون اور پیشاب کے نمونوں کی حیاتیاتی جانچ شامل ہو، تاکہ خطے میں کیڑے مار ادویات کی آلودگی اور انسانی اثرات کی زیادہ واضح تصویر سامنے آسکے۔
۔۔۔۔۔۔ (ندائے مشرق ویب ڈیسک)










