بروسلز، 24 اگست (یواین آئی) یورپی یونین (ای یو) نے یوکرین کی دفاعی ضروریات کے لیے 6.1 ارب یورو کی اگلی مالی امداد کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم ای یو کے 90 ارب یورو کے قرض پروگرام کا حصہ ہے اور اسے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔
یورپی کمیشن کی جانب سے پیر کو جاری بیان کے مطابق، اس امداد سے یوکرین کے لیے فضائی اور میزائل دفاعی نظام، میزائل، گولہ بارود اور ریڈار خریدے جائیں گے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلاون ڈیر لئین نے کہا کہ روسی حملوں میں شدت کے درمیان یورپی یونین یوکرین کو اپنے عوام اور فضائی حدود کے دفاع میں مدد دینے کے لیے اپنی کوششیں بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ”یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے اور ضرورت کے وقت اسے ضروری مدد فراہم کرتا رہے گا۔“
یورپی دفاعی کمشنر آندریس کوبیلیئس نے کہا کہ روس کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان ای یو یوکرین کی مدد کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ امداد یوکرین کو اپنے عوام کے تحفظ اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی خریداری میں مدد دے گی۔
کمیشن کے مطابق زیادہ تر دفاعی سازوسامان یورپی دفاعی کمپنیوں سے خریدا جائے گا۔ اس میں روس کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کی مار کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین پر روسی حملے جاری ہیں۔ یورپی کمیشن کے مطابق صرف جون میں یوکرین کو 376 میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دریں اثنا، 24 اگست کو یوکرین اپنا یوم آزادی منا رہا ہے۔ یوکرین کے وزیراعظم سرہی کویرتسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے یورپی یونین کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
دوسری جانب یورپی کونسل کے صدر انٹونی کوسٹا سمیت یوکرین کے اتحادی ممالک کے رہنما پیر کو دارالحکومت کیف میں ’کولیشن آف دی وِلنگ‘ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اجلاس کا مقصد یوکرین کے لیے اضافی فضائی دفاعی امداد اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ ملک موسم سرما کی جانب بڑھ رہا ہے۔
فن لینڈ کے صدر الیگنزنڈر اسٹب اور لکسمبرگ کے وزیراعظم لوک فریڈن سمیت متعدد رہنما اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کریں گے۔
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم بھی اس فریم ورک کے تحت اپنے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے یوکرین پہنچیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی مقامی تیاری میں مدد دینے کے لیے ان کے ڈیزائن بھی فراہم کر سکتے ہیں۔










