رام اللہ، 13 اگست (یو این آئی) اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تین فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں کے اندر محصور کر رکھا ہے اور پانی و بجلی کی فراہمی منقطع کردی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ مہم ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔
بدھ کے روز نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں قصریٰ سے سامنے آنے والی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں اسرائیلی آبادکاروں کو ایک گھر کے گرد جمع دکھایا گیا ہے۔
محصور رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی دن کے اوائل میں مداخلت کے باوجود آبادکاروں کو منتشر کرنے میں ناکام رہے۔
محاصرے میں موجود رہائشیوں میں سے ایک عائشہ ابو ریدہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ محاصرہ اتوار کو شروع ہوا، جب آبادکاروں نے ان کے گھر کے تمام راستے بند کردیے۔
انہوں نے کہا، "ہم آبادکاروں میں گھرے ہوئے ہیں، لیکن ان شاء اللہ ثابت قدم رہیں گے۔ ہم چاہے کچھ بھی ہوجائے، اپنا گھر نہیں چھوڑیں گے۔ پانی اور بجلی منقطع ہونے کے باوجود ہم ثابت قدم رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا، "ان کے بار بار کیے جانے والے حملوں کے باوجود، جن کا مقصد ہمیں بے دخل کرنا ہے، ان شاء اللہ ہم ثابت قدم رہیں گے اور اپنے گھروں میں رہیں گے، چاہے ہمیں شہید ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔”
گاؤں میں ایک گھر کے مالک فلسطینی نژاد امریکی شہری لوئی ریدی نے بتایا کہ ان کے بھائی قصیٰ ابو ریدہ اور 18 سالہ بھتیجا احمد بھی ان افراد میں شامل ہیں جو گھروں کے اندر محصور ہیں۔
امریکہ کے شہر ٹولیڈو سے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ریدی نے بتایا کہ پانی کی لائنیں منقطع کیے جانے کے بعد خاندان عارضی شمسی توانائی کے نظام اور موسم سرما کے دوران کنویں میں ذخیرہ کیے گئے باقی ماندہ پانی پر انحصار کر رہا ہے۔
ریدی نے کہا، "وہ (قصیٰ ابو ریدہ) گھر چھوڑنا نہیں چاہتا، کیونکہ اگر وہ گھر چھوڑ دیتا ہے تو آبادکار فوراً اس پر قبضہ کرلیں گے۔ یہ واقعی بہت، بہت مشکل ہے۔ اس نے ابھی مجھے بتایا، ’میرے پاس صرف دو سے تین دن کا سامان باقی ہے۔ اور اگر کوئی ہمیں کھانا فراہم نہ کرسکا تو مجھے نہیں معلوم کہ میں مزید کیا کرسکتا ہوں۔‘”
ریدی کے مطابق اتوار کو ان کے بھائی کی جانب سے مدد کے لیے کال کرنے کے باوجود اسرائیلی فورسز نے مداخلت کے لیے بہت کم کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موقعے کی ایک ایسی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں فوجیوں کو آبادکاروں کے ساتھ گھٹنوں کے بل نماز ادا کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "انہوں نے بنیادی طور پر کچھ بھی نہیں کیا۔”
بدھ کی صبح مزید اسرائیلی فوجی علاقے میں پہنچے، آبادکاروں کا خیمہ اکھاڑ دیا اور تقریباً 50 سے 60 افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس کے بعد فوجی وہاں سے واپس چلے گئے۔
ریدی نے کہا، "وہ آبادکاروں کو وہاں سے نکالنے میں اس لیے ناکام رہے کیونکہ انہوں نے ان کے خلاف سختی نہیں کی۔ انہیں چاہیے تھا کہ انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر وہاں سے لے جاتے۔”
اسرائیلی فوج نے بدھ کی شام کہا کہ وہ علاقے میں ایک اضافی انفنٹری بٹالین تعینات کرے گی۔ فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے مزید واقعات کی روک تھام اور "نظم و ضبط اور عملی کنٹرول کو مضبوط بنانے” کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اسے علاقے میں آبادکاروں کے فلسطینی گھروں اور زمینوں میں داخل ہونے اور ان پر قبضہ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فوج نے اس سرگرمی کو "غیر قانونی، قابل مذمت اور ناقابل قبول” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہے۔
فوج نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دنوں موقعے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی سامنے آنے والی ویڈیوز کی بنیاد پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ریدی نے کہا کہ ان کا خاندان "خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔”انہوں نے کہا، "آبادکار انہیں ہراساں اور ان پر حملے کر رہے ہیں۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔”









