ماسکو/کیف، 12 اگست (یو این آئی) روس اور یوکرین نے رات کے دوران ایک دوسرے پر مہلک ڈرون حملے کیے، جن میں یوکرین کے جنوبی شہر خیرسون اور روس کے بحیرۂ اسود کے جنوبی ساحلی علاقوں میں مجموعی طور پر چار افراد ہلاک ہوئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
روس کے شہر نووروسیسک میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ ہلاک اور ایک اور بچہ اور ایک خاتون زخمی ہوگئے۔ شہر کے میئر آندرے کراوچینکو کے مطابق حملے میں گھروں سمیت درجنوں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
کراسنوڈار خطے کے گورنر وینیامین کونڈراتیف نے بتایا کہ نووروسیسک میں مجموعی طور پر آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
ڈرون حملوں سے نووروسیسک کے اناج ٹرمینل کو بھی نقصان پہنچا۔ ٹرمینل کی مالک کمپنی ڈیمیٹرا ہولڈنگ نے اس کی تصدیق کی۔
کراوچینکو نے ٹیلی گرام پر لکھا، ’’نووروسیسک نے ایک خوفناک رات گزاری۔‘‘
کونڈراتیف کے مطابق ایک اور شخص اس وقت ہلاک ہوگیا جب ڈرون کا ملبہ وولنا نامی گاؤں میں ایک مکان کے باغ میں جاگرا۔
ادھر روس کے زیر قبضہ کریمیا میں بھی یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ مقامی گورنر میخائل راز ووزھائیف نے یہ اطلاع دی۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرینی فوج نے نووروسیسک میں ایک بحری اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے جیٹ انجن والے ڈرون، میزائل اور بغیر پائلٹ بحری نظام استعمال کیے۔ ان کے مطابق حملوں میں فضائی دفاعی پوزیشنوں، گھاٹوں اور بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے دوران مجموعی طور پر 502 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا یا تباہ کیا۔
یوکرین کے شہر خیرسون میں روسی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کم از کم دو زخمی ہوگئے۔ علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکساندر پروکودن کے مطابق حملے میں شاہد ڈرونز استعمال کیے گئے اور زخمیوں میں ایک معمر خاتون بھی شامل ہے۔
یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا میں بھی روسی حملے کے نتیجے میں ایک شاپنگ مال میں آگ بھڑک اٹھی۔ علاقائی گورنر ایوان فیودوروف نے عمارت میں آگ لگنے کی تصاویر اور ویڈیو جاری کی۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے باعث زاپوریژیا میں تقریباً 1,200 صارفین کی بجلی منقطع ہوگئی۔
یوکرین کے سب سے بڑے بندرگاہی شہر اوڈیسا پر ایک الگ روسی حملے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ شہر کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ سرہی لیساک نے یہ اطلاع دی۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے اوڈیسا کی بندرگاہ میں موجود ایک ایندھن کے ڈپو کو نشانہ بنایا، جسے مبینہ طور پر یوکرینی فوج کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے یوکرین کے شمال مشرقی خارکیف خطے میں واقع گاؤں وودیانے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کی غذائی، زرعی اور گوداموں کی تنصیبات پر حملے تیز کیے ہیں۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں کیف کی جانب سے روس کے توانائی، بندرگاہی اور لاجسٹکس مراکز پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کی جارہی ہیں۔
یوکرین مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ تصفیہ چاہتا ہے، تاہم کسی بھی معاہدے میں یوکرین کو ان چار علاقوں سے مکمل دستبردار ہونا ہوگا جن پر ماسکو اپنا دعویٰ کرتا ہے اور تنازع کی ’’بنیادی وجوہات‘‘ کو بھی حل کرنا ہوگا۔










