نئی دہلی، 11 اگست (یو این آئی) گرلز اسلامک آرگنائزیشن (جی آئی او) دہلی نے نیشنل فیڈریشن آف گرلز اسلامک آرگنائزیشن (این ایف جی آئی او) کی جانب سے یکم تا 31 اگست 2026 منعقد کی جانے والی ملک گیر مہم ’’ایمسرینگ فیمنینٹی‘‘ میں شرکت کا اعلان کیا ہے ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس مہم کے تحت ملک بھر میں جی آئی او کے زونز، یونٹس اور یونیورسٹی کیمپس کی سطح پر مختلف آن لائن اور آف لائن سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
مہم کا بنیادی مقصد نوجوان خواتین کو اپنی فطری نسوانی خصوصیات کے ساتھ بااختیار اور مضبوط کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ مہم اس تصور کو فروغ دیتی ہے کہ مضبوط اور بااختیار بننے کے لیے نرمی، جذباتی گہرائی، حساسیت، صبر اور قبولیت جیسی فطری خصوصیات کو ترک کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ خصوصیات بھی عورت کی قوت کا حصہ ہوسکتی ہیں۔
مہم کے منتظمین کے مطابق آج کی نوجوان خواتین بیک وقت دو متضاد دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایک طرف روایتی پدرانہ سوچ خواتین پر گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا اضافی بوجھ ڈالتی ہے، جبکہ دوسری جانب بااختیاری کا ایک ایسا تصور پیش کیا جاتا ہے جس میں نرمی، جذبات اور حساسیت کو کمزوری سمجھ کر ترک کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ’’Embracing Femininity‘‘ مہم ان دونوں انتہاؤں کے بجائے ایک متوازن راستہ پیش کرتی ہے، جہاں نسوانیت نہ کوئی مسلط کردہ کردار ہے اور نہ ایسی کمزوری جس پر قابو پانا ضروری ہو، بلکہ عورت کی فطری اور باوقار شناخت کا حصہ ہے۔
مہم کی بنیاد اسلامی تصور فطرت پر رکھی گئی ہے، یعنی وہ فطری اور متوازن مزاج جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ مہم میں وجدان، پرورش کا جذبہ، صبر، حساسیت اور جذباتی گہرائی جیسی نسوانی خصوصیات کو کمزوری کے بجائے قوت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ کی عظیم خواتین، بالخصوص حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت مریمؑ کی زندگیوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نرمی اور جرأت، حساسیت اور استقامت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ساتھ موجود رہنے والی خصوصیات ہیں۔
جی آئی او دہلی کی جانب سے مہم کے دوران مختلف یونٹس اور کیمپس میں مباحثے، مقابلے، آن لائن سرگرمیاں اور تخلیقی مواد پر مشتمل پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوان خواتین کو اپنی فطری شناخت اور صلاحیتوں سے دوبارہ جوڑنا، حد سے زیادہ کام اور ذہنی دباؤ کے حوالے سے صحت مند حدود متعین کرنے میں مدد دینا اور باہمی تعاون و جذباتی نشوونما کے لیے معاون ماحول فراہم کرنا ہے۔
مہم کے چار بنیادی مقاصد میں نوجوان خواتین کو اپنی فطری نسوانی شناخت اور فلاح سے دوبارہ جوڑنا، زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی منفرد صلاحیتوں اور کردار کو اجاگر کرنا، مغربی لبرل بیانیوں اور داخلی پدرانہ دباؤ کو سمجھتے ہوئے متوازن رویہ اختیار کرنے کے قابل بنانا اور باہمی تعاون، جذباتی صحت اور مثبت نشوونما کے لیے مضبوط نیٹ ورک تشکیل دینا شامل ہے۔
مہم کے تصوراتی نوٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بااختیاری کا مطلب نسوانیت کو ترک کرنا نہیں بلکہ اسے قوت، پائیداری اور اندرونی سکون کے ایک ذریعے کے طور پر قبول کرنا ہے۔ مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایک عورت کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ مسلسل تھکن اور ذہنی دباؤ نہیں بلکہ زندگی میں توازن، وقار اور اطمینان کا حصول ہے۔
جی آئی او دہلی نے اپنی تمام یونٹس اور کیمپس سے وابستہ نوجوان خواتین کو اس ایک ماہ طویل مہم میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہم خواتین کی شناخت، توازن، وقار اور فطری صلاحیتوں کے حوالے سے ایک اہم اور بامعنی گفتگو کا آغاز کرے گی۔










