واشنگٹن، 6 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا کے 60 فیصد تیل پر قابض ہے جس میں وینزویلا کے وسائل کو امریکی صلاحیت کے حصے کے طور پر شمار کیا گیا ہے لاس ویگاس میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’ہمارے پاس زیادہ پٹرول ہے، لیکن ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ تیل اور گیس بھی ہے۔ اب اس میں وینزویلا کو بھی شامل کر لیجیے۔ اسے شامل کرنے کے بعد ہمارے پاس دنیا کے 60 فیصد تیل اور گیس کے ذخائر ہیں، جن میں وینزویلا بھی شامل ہے۔‘‘
3 جنوری کو امریکہ نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی تھی، جس کے دوران نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں مبینہ طور پر ’’منشیات کی دہشت گردی‘‘ میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مادورو اور فلورس نے نیویارک کی عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کیا تھا۔
مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی سپریم کورٹ نے عارضی طور پر نائب صدر روڈریگیز کو صدر کے اختیارات سونپ دیے تھے۔ ان کے دور میں امریکی اور وینزویلا کے حکام نے باہمی تعلقات کے ایک نئے لائحۂ عمل پر مذاکرات شروع کیے، جن میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون، وینزویلا کے منجمد فنڈز کی رہائی، جنوبی امریکی ملک کے تیل کی فروخت، معدنی وسائل کی تلاش اور سفارتی مذاکرات کی بحالی شامل ہیں۔
9 جنوری کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی، جن میں شیورون، ایکسن، شیل اور کونوکو فلپس شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں کم از کم 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ضروری ہوگی۔





