واشنگٹن، 6 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کے تحت 11 نئے برف شکن بحری جہاز خریدنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکی کوسٹ گارڈز نے صرف 4 یا 5 بھاری برف شکن جہازوں کی ضرورت ظاہر کی تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اعلان فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے ساتھ مشترکہ طور پر کیا گیا ہے، منصوبے کے تحت ابتدائی 4 جہاز فن لینڈ میں جبکہ باقی امریکہ میں تیار کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے قومی سلامتی کے جہاز امریکہ میں ہی تیار کرنے کی قانونی شرط سے بھی استثنیٰ دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 11 جہاز خریدنے کا فیصلہ خود صدر ٹرمپ نے کیا ہے جبکہ ٹھیکے بھی معمول کے مسابقتی عمل کے بغیر دیے گئے ہیں جس پر شفافیت اور اخراجات سے متعلق سوالات اُٹھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جہازوں کی خریداری کے علاوہ ان کی دیکھ بھال، بندرگاہی سہولتوں اور عملے کی بھرتی کے لیے بھی مزید اربوں ڈالر درکار ہوں گے لیکن اس حوالے سے کوئی واضح طویل مدتی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرکٹک میں بڑھتی عالمی مسابقت کے پیشِ نظر امریکہ کی موجودگی مضبوط بنانا ضروری ہے جبکہ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ روس کے مقابلے میں امریکہ کے پاس برف شکن جہاز بہت کم ہیں۔
امریکی ساحلی محافظ ادارے کے مطابق روس کے پاس اس وقت 56 اور چین کے پاس 5 برف شکن جہاز موجود ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی آرکٹک ضروریات امریکا سے مختلف ہیں، اس لیے دونوں کا براہِ راست موازنہ درست نہیں۔
رپورٹ کے مطابق برف شکن جہازوں میں ٹرمپ کی دلچسپی 1992ء میں فن لینڈ کے دورے کے دوران پیدا ہوئی تھی جو صدر بننے کے بعد بھی برقرار رہی اور 2025ء میں فن لینڈ کے صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔





