کابل، 5 اگست (یواین آئی/اسپوتنک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے مدنظر ہونے والے جائزہ اجلاس سے قبل افغانستان کی موجودہ انتظامیہ نے بین الاقوامی اجلاسوں میں اپنے نمائندے کی شرکت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان ریڈیو اسٹیشن ‘سلام وطندار’ کی رپورٹ کے مطابق، حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان نمائندوں کی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر موجودگی کے لیے ضروری حالات بنائے جانے چاہئیں۔
فی الحال اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے کے طور پر سابق حکومت کے مقرر کردہ نصیر احمد فائق برائے نام نمائندے بنے ہوئے ہیں۔
مسٹرمجاہد نے کہا، "افغانستان بین الاقوامی برادری کا اٹوٹ حصہ ہے اور تمام ممالک کو اقوام متحدہ کی رکنیت کا حق حاصل ہے۔ افغانستان کے اس حق کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے تھا، لیکن تقریباً پانچ سالوں سے اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی تنظیم کے لیے یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ افغانستان اقوام متحدہ میں موجود ہو کر اپنے حقوق کا تحفظ کرنا اور اپنے متعلق اٹھائے جانے والے مسائل پر جواب دینا چاہتا ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ پیر کو اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی مستقل نمائندہ کرسٹینا مارکس لاسن نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر وہاں کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں خاص طور پر افغان شہریوں، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں پر پڑنے والے اثرات پر بات چیت ہوگی۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان نے امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت کو ہٹا کر افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور نیٹو کی افواج تقریباً 20 سالہ فوجی موجودگی ختم کر کے ملک سے واپس لوٹ گئی تھیں۔ اس وقت کے صدر اشرف غنی دارالحکومت کابل کے زوال سے کچھ گھنٹے پہلے ہی ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے، جس کے بعد اس وقت کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔










