واشنگٹن،5 اگست(یو این آئی) امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم عبوری معاہدے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق فریقین کی جانب سے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری طویل مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا اور رکے ہوئے جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔
امریکی رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے کنٹرول سے متعلق ایران کے وہ مطالبات بھی پورے کر دیے گئے ہیں جو جنگ سے قبل اسے حاصل نہیں تھے۔
معاہدے کے تحت عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام طے پایا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکے گی۔ اس انتظام کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تمام بحری جہاز ایرانی حدود میں واقع شمالی لین استعمال کریں گے، جبکہ بحیرہ عرب کی جانب جانے والی ٹریفک ایران کی مشاورت سے عمانی حدود کی جنوبی لین سے گزرے گی۔ اس 60 روزہ عارضی مدت کے دوران جہازوں سے کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
اس کے علاوہ فریقین کے مابین یہ بھی طے پایا ہے کہ 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی لین سے بحری بارودی سرنگیں صاف کی جائیں گی۔ درمیانی لین صاف ہونے کے بعد اسے دونوں ممالک کے مستقل انتظامات کے تحت دو طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق، عمان اور ایران کے درمیان ان براہ راست مذاکرات میں قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے حکام نے بھی کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس پورے عمل کے دوران وائٹ ہاؤس بھی انتہائی فعال رہا، اور امریکی صدر کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان متعدد اہم ٹیلی فونک رابطے ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس معاہدے پر اصولی اتفاق کر لیا تھا، جس کے بعد ایرانی قیادت نے منگل کے روز اس معاہدے کی حتمی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔










