لائن لاس میں کمی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور مالی خود کفالت پر خصوصی توجہ؛ اہم منصوبے بروقت تکمیل کی ہدایت
(ڈی آئی پی آر )
سرینگر؍۶ جولائی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج محکمہ بجلی ترقی (پی ڈی ڈی) کی اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے، نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
میٹنگ میں بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی، آمدنی کی وصولی، ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم پر عمل درآمد، مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات میں کمی، ٹرانسمیشن منصوبوں اور آئندہ اصلاحاتی روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ بجلی اشونی کمار، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر گرپال سنگھ، کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر محمود احمد شاہ، چیف الیکٹریکل انسپکٹوریٹ سنجے شرما، جے کے ٹی پی سی ایل کے سینئر افسران، انجینئروں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
پیشکش کے دوران بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں آر ڈی ایس ایس کے تحت بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر مؤثر پیش رفت ہوئی ہے اور۵۷۰۰ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان میں سے تقریباً۴۷۰۰ کروڑ روپے کے منصوبے لائن لاس میں کمی سے متعلق ہیں جن کے بیشتر کام الاٹ کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سمارٹ میٹرنگ سے بلنگ کا نظام مزید مؤثر ہوگا، بجلی کے نقصانات میں کمی آئے گی اور صارفین کو اپنی بجلی کے استعمال سے متعلق شفاف معلومات دستیاب ہوں گی۔
میٹنگ میں فضائی بنڈل کیبلز کی تنصیب، فیڈر سیگریگیشن، ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمروں کی استعداد میں اضافہ، زیر زمین کیبل بچھانے اور تقسیمی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے جیسے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ متعدد اضلاع میں ان منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور کئی پیکیجز تکمیل کے قریب ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بجلی کے شعبے کی مالی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے آمدنی کی وصولی میں ہونے والی بہتری کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سالانہ ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بجلی کی خریداری پر آنے والی لاگت اور حاصل ہونے والی آمدنی کے درمیان فرق بھی اصلاحات، بہتر بلنگ اور وصولیوں میں اضافے کے باعث کم ہوا ہے۔
میٹنگ کو آگاہ کیا گیا کہ۲۰۲۱۔۲۲ میں بلنگ کی کارکردگی۵۶ فیصد تھی جو۲۰۲۵۔۲۶ میں بڑھ کر۷۷ فیصد ہو گئی ہے، جبکہ اسی عرصے میں مجموعی اے ٹی اینڈ سی نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح اے سی ایس۔اے آر آر کا فرق بھی کم ہوا ہے، جس سے بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی مالی پائیداری میں بہتری آئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے موجودہ موسم گرما میں پانی کی کم دستیابی کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں زیادہ طلب کے اوقات میں توانائی ایکسچینج سے بجلی خریدنے پر انحصار بڑھا ہے۔ حکام نے انہیں موسمی چیلنجوں کے باوجود بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے کیے جا رہے اقدامات سے آگاہ کیا۔
آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے زور دیا کہ جاری آر ڈی ایس ایس پروگرام کے بعد بھی اصلاحات کا عمل اسی رفتار سے جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ منظور شدہ تمام منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں، منصوبوں پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کی جائے، رکاوٹیں دور کی جائیں اور ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اے بی کیبل نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے، ٹرانسمیشن نظام کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانے اور نظامی نقصانات کم کرنے پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور بجلی کے شعبے کی طویل مدتی مالی خود کفالت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے متعدد نئی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں اے بی کیبل نیٹ ورک کی توسیع، اہم ٹرانسمیشن منصوبے، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور چھتوں پر سولر توانائی کے منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد گرڈ کے استحکام کو بہتر بنانا، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ کرنا اور دور دراز و سرحدی علاقوں تک قابلِ اعتماد بجلی پہنچانا ہے۔
میٹنگ میں غیر برق شدہ آبادیوں کی بجلی کاری، جاری ٹرانسمیشن منصوبوں، فیڈر وار بجلی کی کٹوتی، مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ کے ٹیرف سے متعلق کارروائی اور بجلی کے شعبے کو مزید جدید بنانے کے لیے مجوزہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ قابلِ اعتماد اور سستی بجلی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ معیاری بجلی کی فراہمی، صارفین کا اطمینان اور جموں و کشمیر میں ایک جدید، مؤثر اور مالی طور پر مستحکم بجلی کا نظام قائم کیا جا سکے۔










