مریضوں کے تحفظ کیلئے مرکزی وزارتِ صحت نے قواعد میں ترمیم کر دی
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۶ جون
مرکزی وزارتِ صحت نے ادویات کے معیار اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق خدشات کے پیش نظر کھانسی کے شربت سمیت تمام سیرپ پر مبنی ادویات کی فروخت ڈاکٹر کے نسخے سے مشروط کر دی ہے۔
اس سلسلے میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے ڈرگز (پانچویں ترمیمی) قواعد۲۰۲۶کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو سرکاری گزٹ میں اشاعت کے ساتھ ہی نافذ العمل ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیرپ پر مبنی ادویات، بالخصوص کھانسی کے شربت، کو مزید سخت ضابطہ جاتی نگرانی کے دائرے میں لانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈرگز رولز۱۹۴۵ کے شیڈول ’کے‘ میں ’’ادویات کی اقسام‘‘ کے تحت درج آئٹم نمبر۷ سے لفظ ’’سیرپس‘‘ حذف کر دیا گیا ہے۔
شیڈول ’کے‘ ان ادویات کی فہرست پر مشتمل ہے جنہیں بعض شرائط کے ساتھ ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ اور قواعد کے تحت تیاری، فروخت اور تقسیم سے متعلق مخصوص ضوابط میں رعایت حاصل ہوتی ہے۔
وزارت نے گزشتہ سال دسمبر میں اس حوالے سے ایک مسودۂ نوٹیفکیشن جاری کرکے عوام اور متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے تھے۔ موصولہ آراء کا جائزہ لینے کے بعد ڈرگز ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ (ڈی ٹی اے بی) سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد ترمیم کو حتمی شکل دی گئی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ برسوں میں کھانسی کے شربت اور دیگر مائع ادویات کے معیار پر عالمی سطح پر سوالات اٹھے تھے۔ کئی ممالک میں آلودہ ادویات کے استعمال سے بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد ان مصنوعات کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی ترمیم سے سیرپ پر مبنی ادویات کی نگرانی، معیار کی جانچ اور فروخت کے نظام میں شفافیت بڑھے گی، جبکہ دوا ساز کمپنیوں اور فروخت کنندگان کو سخت لائسنسنگ اور کوالٹی کنٹرول ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔










