واشنگٹن، 12 جون (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے روک دیے گئے ہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ چکی ہے اور اس کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جس کے بعد انہوں نے بطور صدر حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نکات اور تفصیلات پر تمام فریقین، جن میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیے، پاکستان، بحرین، کویت، اردن اور مصر سمیت دیگر ممالک شامل ہیں، اصولی اور تفصیلی سطح پر متفق ہوچکے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق حتمی معاہدے پر دستخط تک بحری ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی جبکہ معاہدے پر دستخط کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
س سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا آج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گا اور جلد ہی ایران کے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نیوی، ائیر فورس، ریڈار اور ہر طرح کا دفاع ختم ہوچکا ہے اور ہم آج رات ایران کو بہت شدید حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ مستقبل قریب میں امریکا ایران کے خارگ جزیرے سمیت دیگر تیل کے اہم مراکز پر قبضہ کرلے گا اور ایران کی آئل اور گیس مارکیٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کرے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ وینزویلا میں بھی ایسا کرچکا ہے اور اس کا نتیجہ امریکا اور وینزویلا دونوں کے لیے بہت اچھا رہا۔
ادھرمصری وزارتِ خارجہ کہا ہے کہ امریکہ اور ایران وہ جنگ کے خاتمے کے لیے موجود ’’دستیاب موقع‘‘ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاہدے کی جانب پیش رفت کریں۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک باہمی اختلافات کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب بنائیں گے اور تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کریں گے جسسے خطے میں استحکام کے نئے دور کا آغاز ممکن ہوگا۔
امریکی ویب نے امریکہ ایران ڈیل کے ممکنہ نکات کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاری کی گئی ممکنہ نکات کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول یا فیس کے دوبارہ کھول دیا جائے۔ اس کے بدلے ایران پر پابندیوں میں نرمی یا ریلیف دیا جائے۔ جنگ بندی ڈیل میں ساٹھ دن کی توسیع ہو گی، جس کا اطلاق لبنان میں بھی ہوگا۔ اس عرصے کے دوران جوہری مذاکرات جاری رہیں گے۔
معاہدے کے مطابق ایران یہ وعدہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور اپنے افزودہ یورینیم کے معاملے پر جاری تنازع کو حل کرے گا۔ سمندری تجارت اور جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس آ جائے گی۔ اس کے بدلے میں امریکہ بھی اپنی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ ایران کو عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ وہ ساٹھ دن تک اپنا تیل فروخت کر سکے۔
ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران منجمد اثاثوں کی فوری ادائیگی چاہتا ہے جبکہ امریکا مرحلہ وار اور شرائط پوری ہونے پر دینے کا خواہاں ہے۔ نیوزویب سائیٹ کے مطابق امریکہ اور ایران معاہدے کے مسودے پر اتفاق کر چکے ہیں، لیکن معاہدے کے نافذ ہونے سے پہلے دونوں جانب سے آخری منظوری ابھی باقی ہے۔
صدر ٹرمپ کے امریکہ ایران ڈیل کے اعلان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو حیران کر دیا، کیونکہ انہیں اس پیش رفت کی توقع نہیں تھی۔ نیوز ویب سائت نے یہ بتایا کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا معاہدہ ”اسلام آباد معاہدہ” کہا جائے گا۔










