نئی دہلی، 13 مئی (یواین آئی )آئی پی ایل 2026 میں پلے آف کی دوڑ اپنے دلچسپ ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ گجرات ٹائٹنز نے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف 82 رنز کی یکطرفہ جیت حاصل کر کے پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے، لیکن سابق کرکٹر محمد کیف کا ماننا ہے کہ ٹاپ فور میں موجود ٹیمیں بھی ابھی خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتیں۔
جیو ہاٹ اسٹار کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد کیف نے سائی سدھرسن کی اننگز کو گجرات کی جیت کی بنیاد قرار دیا۔ کیف کے مطابق، سست پچ پر جہاں بیٹنگ مشکل تھی، سدھرسن نے ایک ‘اینکر’ کا کردار ادا کیا اور اپنی بہترین تکنیک کے ذریعے رنز بنانے کا عمل جاری رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گجرات ٹائٹنز پلے آف کے لیے کوالیفائی کرتی نظر آ رہی ہے، لیکن دیگر پوزیشنز کے لیے مقابلہ ابھی کھلا ہے۔
محمد کیف نے آنے والے میچوں کے حوالے سے چند اہم نکات اٹھائے۔کیف کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کے لیے چنئی کے خلاف ان کے ہوم گراؤنڈ پر کھیلنا ایک کڑا امتحان ہوگا۔ اگر حیدرآباد ٹاپ دو میں جگہ بنانا چاہتی ہے، تو اسے چنئی کو شکست دینا ہوگی، جو کہ اس وقت بہترین فارم میں ہے۔
آر سی بی کے خلاف میچ سے قبل ورون چکرورتی کی ممکنہ عدم دستیابی کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے بڑا نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔ کیف نے کہا کہ ورون کی غیر موجودگی کا ویراٹ کوہلی بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ ورون کے کے آر کی اسپن حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔
تجربہ کار بلے باز چیتشور پجارا نے کگیسو راباڈا کی بولنگ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا "ربادا نے ابھیشیک شرما کی حرکت کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ جب ابھیشیک نے جگہ بنا کر کھیلنے کی کوشش کی، تو ربادا نے اپنی لائن تبدیل کی اور بلے باز کا پیچھا کیا۔ گیند میں غیر متوقع اچھال تھا جو بلے کے اندرونی کنارے سے لگ کر اسٹمپ میں جا گھسا۔ یہ ایک عالمی معیار کی بولنگ کا نمونہ تھا۔”
واضح رہے کہ انڈین پریمیئر لیگ 2026 کے ایک انتہائی اہم مقابلے میں کل جمعرات کو پنجاب کنگز کا سامنا ممبئی انڈینز سے ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں ہوگا۔ پنجاب کے لیے یہ میچ پلے آف کی دوڑ میں بنے رہنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ممبئی انڈینز محض اپنی ساکھ بچانے اور دوسری ٹیموں کا کھیل بگرانے کی نیت سے میدان میں اترے گی۔
پنجاب کنگز نے سیزن کا آغاز انتہائی جارحانہ انداز میں کیا تھا اور اپنے ابتدائی سات میچوں میں ناقابلِ شکست رہی تھی۔ تاہم، مسلسل چار شکستوں نے ٹیم کی پوزیشن کمزور کر دی ہے اور وہ اس وقت 13 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر کھسک گئی ہے۔
پنجاب کی بیٹنگ لائن اپ اب بھی ٹورنامنٹ کی خطرناک ترین بیٹنگ لائن اپس میں سے ایک ہے۔ اوپنر پرینش آریہ اور پربھسمرن سنگھ کی برق رفتار شروعات کے ساتھ ساتھ کپتان شریس ایر اور کوپر کونولی مڈل آرڈر کو استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
بولنگ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ ارش دیپ سنگھ کی کوششوں کے باوجود ٹیم بڑے سکور کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی بڑی وجہ معاون بولرز کا بے دریغ رنز لٹانا ہے۔
پانچ بار کی چیمپئن ممبئی انڈینز 6 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔ لیکن حالیہ میچوں میں ان کے کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی حریف ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
تجربہ کار اوپنر روہت شرما اپنی پرانی فارم میں واپس آچکے ہیں اور گزشتہ دو میچوں میں 200 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقی وکٹ کیپر ریان رکلٹن سیزن کے کامیاب ترین بلے باز رہے ہیں، جبکہ مڈل آرڈر میں تلک ورما اور نمن دھیر نے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ممبئی کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ان کی بولنگ میں عدم استحکام ہے۔ یہاں تک کہ اسٹار بولر جسپریت بمراہ بھی اس سیزن میں اپنی جادوئی بولنگ کا مظاہرہ نہیں کر سکے ہیں۔
ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ میں پنجاب کا پلہ بھاری ہے، جس نے گزشتہ چار میں سے تین میچوں میں ممبئی کو شکست دی ہے۔ دھرم شالہ کی پچ بلے بازوں کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے اور صاف موسم میں یہاں ایک ہائی اسکورنگ میچ کی توقع ہے۔
پنجاب کے لیے یہ میچ بقا کی جنگ ہے، جبکہ ممبئی کے لیے یہ عزتِ نفس کا مسئلہ ہے۔ اگر پنجاب یہ میچ ہارتی ہے تو اس کا پلے آف کا سفر دشوار ہو جائے گا، جبکہ ممبئی کی جیت ٹورنامنٹ کے پوائنٹس ٹیبل میں بڑی الٹ پھیر کر سکتی ہے۔








