جمعہ, اکتوبر 16, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

اشتعال انگیز سوشل میڈیا مواد پر۶۰ دن کی پابندی‘ سخت کارروائی کا انتباہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
اشتعال انگیز سوشل میڈیا مواد پر۶۰ دن کی پابندی‘ سخت کارروائی کا انتباہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
ایجنسیز
جموں؍۱۷؍اپریل
انتظامیہ نے جمعرات کو ضلع جموں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فرقہ وارانہ طور پر حساس اور اشتعال انگیز مواد کی اشاعت اور شیئرنگ پر۶۰دن کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کی وجہ عوامی نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو لاحق خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے ذریعے فرقہ وارانہ اشتعال انگیز، جھوٹا اور بھڑکانے والا مواد پھیلایا جا رہا ہے، جو امن عامہ میں خلل ڈالنے، فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر راکیش منہاس نے کہا’’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)۲۰۲۳ کی دفعہ۱۶۳کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، میں حکم دیتا ہوں کہ ضلع جموں کی حدود میں کسی بھی ایسے مواد—متن، تصویر، ویڈیو، آڈیو، میم، گرافک یا ریل—کی پوسٹنگ، اپ لوڈنگ، شیئرنگ یا فارورڈنگ سختی سے ممنوع ہوگی جو مذہب، نسل، ذات، برادری، زبان یا خطے کی بنیاد پر دشمنی، نفرت یا بد نیتی کو فروغ دے‘‘۔
بی این ایس ایس کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے احکامات جاری کرے جو کسی شخص کے کام میں رکاوٹ، اذیت یا نقصان کو روکنے، انسانی جان، صحت یا سلامتی کو لاحق خطرات کو کم کرنے، یا امن عامہ میں خلل، فسادات یا جھگڑوں کو روکنے کے لیے ضروری ہوں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر ضلع جموں میں بعض سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے تاکہ عوامی نظم و نسق برقرار رکھا جا سکے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
حکم کے مطابق، کسی بھی ایسے جھوٹے، من گھڑت یا گمراہ کن مواد کی تیاری یا ترسیل پر بھی پابندی ہوگی جس کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی، فسادات یا کسی گروہ کے خلاف تشدد کو بھڑکانا ہو۔ اسی طرح، مسخ شدہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر تصاویر یا ویڈیوز کے پھیلاؤ کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، کسی مخصوص برادری، مذہب، ذات یا نسلی گروہ کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، دھمکیاں دینے یا تشدد پر اکسانے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہجوم کو منظم کرنا، غیر قانونی اجتماعات یا جلوس نکالنا اور کسی مخصوص گروہ کو نشانہ بنانا بھی ممنوع ہوگا۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ، فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس

کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا (بی این ایس)۲۰۲۳؍اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانے سے لے کر قید، حتیٰ کہ سنگین معاملات میں عمر قید تک کی سزا شامل ہو سکتی ہے۔
حکم کے مطابق، دفعہ۱۶۳کے تحت جاری کردہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایک سے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز مواد کو آگے نہ بڑھائیں اور ایسے مواد کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا سائبر کرائم یونٹ کو دیں۔سوشل میڈیا گروپس اور چینلز کے ایڈمنز کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ ممنوعہ مواد کی گردش کو روکیں، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍اے اور آئی ٹی رولز۲۰۲۱ کے تحت جاری کردہ ٹیک ڈاؤن احکامات کی پابندی کریں، بصورت دیگر انہیں قانونی نتائج، بشمول سیف ہاربر تحفظ کے خاتمے، کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نفاذ کے لیے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے، جبکہ سائبر کرائم یونٹ کو آن لائن پلیٹ فارمز کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ذیلی اضلاع کی سطح پر خصوصی مانیٹرنگ سیلز بھی قائم کیے جائیں گے۔
یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور۶۰ دن تک برقرار رہیں گی، جب تک کہ انہیں پہلے واپس یا ترمیم نہ کیا جائے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ حکم تمام افراد اور پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا جن کا مواد ضلع جموں میں امن عامہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

متعلقہ

’لداخ کی ترقی مرکز کی اولین ترجیح‘

سپریم کورٹ میں مرکز کا بیان:’ریل بنانے والے اور آزاد صحافی میں فرق کرنا مشکل ‘

ایجنسیز
جموں؍۱۷؍اپریل
انتظامیہ نے جمعرات کو ضلع جموں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فرقہ وارانہ طور پر حساس اور اشتعال انگیز مواد کی اشاعت اور شیئرنگ پر۶۰دن کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کی وجہ عوامی نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو لاحق خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے ذریعے فرقہ وارانہ اشتعال انگیز، جھوٹا اور بھڑکانے والا مواد پھیلایا جا رہا ہے، جو امن عامہ میں خلل ڈالنے، فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر راکیش منہاس نے کہا’’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)۲۰۲۳ کی دفعہ۱۶۳کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، میں حکم دیتا ہوں کہ ضلع جموں کی حدود میں کسی بھی ایسے مواد—متن، تصویر، ویڈیو، آڈیو، میم، گرافک یا ریل—کی پوسٹنگ، اپ لوڈنگ، شیئرنگ یا فارورڈنگ سختی سے ممنوع ہوگی جو مذہب، نسل، ذات، برادری، زبان یا خطے کی بنیاد پر دشمنی، نفرت یا بد نیتی کو فروغ دے‘‘۔
بی این ایس ایس کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے احکامات جاری کرے جو کسی شخص کے کام میں رکاوٹ، اذیت یا نقصان کو روکنے، انسانی جان، صحت یا سلامتی کو لاحق خطرات کو کم کرنے، یا امن عامہ میں خلل، فسادات یا جھگڑوں کو روکنے کے لیے ضروری ہوں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر ضلع جموں میں بعض سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے تاکہ عوامی نظم و نسق برقرار رکھا جا سکے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
حکم کے مطابق، کسی بھی ایسے جھوٹے، من گھڑت یا گمراہ کن مواد کی تیاری یا ترسیل پر بھی پابندی ہوگی جس کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی، فسادات یا کسی گروہ کے خلاف تشدد کو بھڑکانا ہو۔ اسی طرح، مسخ شدہ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر تصاویر یا ویڈیوز کے پھیلاؤ کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، کسی مخصوص برادری، مذہب، ذات یا نسلی گروہ کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، دھمکیاں دینے یا تشدد پر اکسانے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہجوم کو منظم کرنا، غیر قانونی اجتماعات یا جلوس نکالنا اور کسی مخصوص گروہ کو نشانہ بنانا بھی ممنوع ہوگا۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ، فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس

کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا (بی این ایس)۲۰۲۳؍اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانے سے لے کر قید، حتیٰ کہ سنگین معاملات میں عمر قید تک کی سزا شامل ہو سکتی ہے۔
حکم کے مطابق، دفعہ۱۶۳کے تحت جاری کردہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایک سے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز مواد کو آگے نہ بڑھائیں اور ایسے مواد کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا سائبر کرائم یونٹ کو دیں۔سوشل میڈیا گروپس اور چینلز کے ایڈمنز کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ ممنوعہ مواد کی گردش کو روکیں، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍اے اور آئی ٹی رولز۲۰۲۱ کے تحت جاری کردہ ٹیک ڈاؤن احکامات کی پابندی کریں، بصورت دیگر انہیں قانونی نتائج، بشمول سیف ہاربر تحفظ کے خاتمے، کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نفاذ کے لیے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے، جبکہ سائبر کرائم یونٹ کو آن لائن پلیٹ فارمز کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ذیلی اضلاع کی سطح پر خصوصی مانیٹرنگ سیلز بھی قائم کیے جائیں گے۔
یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور۶۰ دن تک برقرار رہیں گی، جب تک کہ انہیں پہلے واپس یا ترمیم نہ کیا جائے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ حکم تمام افراد اور پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا جن کا مواد ضلع جموں میں امن عامہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وزیر اعلیٰ سے مختلف وفود کی  ملاقات‘ مسائل کے حل کی یقین دہانی

Next Post

وادی میں ہلکی بارش، اتوار تک مزید برسات کی پیش گوئی بانڈی پورہ گریز شاہراہ پر پھسلن‘ ٹریفک کی نقل و حمل معطل

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’بھارت دہشت گردی کیخلاف موقف پر ثابت قدم‘
اہم ترین

’لداخ کی ترقی مرکز کی اولین ترجیح‘

2026-10-16
۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد 
اہم ترین

سپریم کورٹ میں مرکز کا بیان:’ریل بنانے والے اور آزاد صحافی میں فرق کرنا مشکل ‘

2026-10-16
سانبہ میں گھر گھر تلاشی لوگوں سے پوچھ گچھ
اہم ترین

جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں بارش، بالائی علاقوں میں تازہ برف باری سے پہاڑ سفید

2026-10-16
’سرینگر میں بائر سیلر ملاقات سے برآمدات کو نئی رفتار ملے گی‘
اہم ترین

سونمرگ کو سال بھر ایڈونچر کھیلوں کا مرکز بنانے کا منصوبہ:عمر

2026-10-16
جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

سنہا کی ’جشنِ ڈل‘ کی کامیاب تکمیل پر پولیس کو مبارک باد

2026-10-16
امریکہ ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے :راج ناتھ
اہم ترین

پاکستان سے کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا پہلے سے زیادہ  سخت جواب دیا جائے گا: راجناتھ

2026-10-16
اہم ترین

بی جے پی نے جموں  کشمیر حکومت کے ’دوہرے اقتدار‘ کے مؤقف کو مسترد کردیا

2026-10-16
پولیس نے سرینگر میں ۵ رہائشی مکان مقفل کئے
اہم ترین

سرینگر میں منشیات کے خلاف  کارروائی، ۱۳ء۴۳ کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے منسلک

2026-10-16
Next Post
وادی میں ہلکی بارش، اتوار تک مزید برسات کی پیش گوئی بانڈی پورہ گریز شاہراہ پر پھسلن‘ ٹریفک کی نقل و حمل معطل

وادی میں ہلکی بارش، اتوار تک مزید برسات کی پیش گوئی بانڈی پورہ گریز شاہراہ پر پھسلن‘ ٹریفک کی نقل و حمل معطل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.