حیدرآباد 20نومبر(یواین آئی)مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے نے شہری نکسل اور کمیونسٹ جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر دوہرا معیار اختیار کرنے اور عوامی فلاح وبہبود میں کوئی رول ادا نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے اُن افراد پر بھی نکتہ چینی کی جو تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تائید کرتے ہیں اور اس کی مختلف تنظیموں میں عہدے قبول کرچکے ہیں۔
بی جے پی کے ریاستی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی کامیابیوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے ، خاص طور پر اُن گروپس کی جانب سے جو خود آرام سے رہتے ہوئے عوام کو اُکساتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ نام نہاد شہری نکسلوں نے عوام کو بھڑکا کر اور بدامنی پھیلا کر آخر کیا حاصل کیا؟ انہوں نے کہا "یہ اے سی کمروں میں بیٹھ کر فرضی انکاؤنٹرس پر بات کرتے ہیں، کسی کی موت پر تعزیت اور گیت گاتے ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی ان افرادسے ہتھیار ڈالنے کو کہا؟ ان کے مقاصد اور سمت کیا ہیں؟وزیرموصوف نے مرکز کی اسکیموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے عوامی خط اعتمادکے ذریعہ حکومت حاصل کی ہے اور تقریباً 20 ریاستوں میں برسراقتدار ہے ۔
"ہم نے 25 کروڑ افرادکو غربت سے نکالا، کروڑوں کو مفت راشن فراہم کیا، اور ہندوستان کو دنیا کی چار بڑی معیشتوں میں شامل کیا۔ ہمارا مشن ہے کہ 2047 تک ہندوستان کو نمبر ون ملک بنایا جائے ۔ اس کے مقابلہ میں بائیں بازو کے گروپس کا ہدف کیا ہے ؟”تلنگانہ کی کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ وہ 100 دن میں اپنی 6ضمانتیں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ اراضی کہاں ہے ؟ ملازمتیں کہاں ہیں؟ بیروزگاری بھتہ، خواتین کے لئے 2,500 روپے ، یا ضعیف افراد کے لئے 4,000 روپے پنشن کہاں ہے ؟”۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے ماتحت کمیشنوں اور کمیٹیوں میں عہدے قبول کرنے والوں میں اخلاق اور دیانت ہے تو فوری استعفیٰ دینا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلاتی علاقوں میں موجود نکسلائٹ اب مودی حکومت کی ترقی دیکھ کر ہتھیار ڈال رہے ہیں لیکن شہری نکسل ابھی تک ماضی میں جی رہے ہیں۔ ایک سینئر کمیونسٹ قائد نے ایک بار کہا تھا کہ ساٹھ سال کے بعد کمیونزم کی بات کرنا ایک ذہنی بیماری جیسا ہے ۔








