سرینگر/۱۴نومبر
بہار میں این ڈی اے کی بھاری بھرکم جیت کے دن‘وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس میں ایک اور ممکنہ پھوٹ کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا کہ وہ ’’گرینڈ اولڈ پارٹی‘‘ سے ہوشیار رہیں۔
وزیراعظم نے دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس الیکشن کمیشن پر تنقید کرتی ہے، ’ووٹ چوری‘ جیسے بے بنیاد مسائل پر بے تکی شکایات کرتی ہے، اور مذہب و ذات کی بنیاد پر لوگوں کو بانٹتی ہے… کانگریس کے پاس ملک کیلئے کوئی مثبت وڑن نہیں‘‘۔
مودی نے بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شاندار جیت پر کہا کہ اس کامیابی نے ریاست کو ’’نیا ایم وائی…مہلا اور یوتھ‘‘ فارمولا دیا ہے، جبکہ عوام نے ’’جنگل راج والوں کے فرقہ وارانہ ایم وائی فارمولے‘‘ کو مسترد کر دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بہار وہ زمین ہے جس نے بھارت کو ’’جمہوریت کی جنم بھومی‘‘ ہونے کا وقار دیا، اور اسی زمین نے جمہوریت پر حملہ کرنے والوں کو ’’مٹی چٹوا دی‘‘۔انہوں نے کہا’’بہار نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جھوٹ ہارتا ہے اور عوام کا بھروسہ جیتتا ہے۔‘‘
مودی نے کہا کہ اس جیت نے عوام کے اعتماد کو الیکشن کمیشن کے مضبوط، غیرجانبدارانہ کردار پر مزید مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت کی بھی تعریف کی اور این ڈی اے اتحادیوں کو مبارک باد دی۔
مودی نے کہا، ’’بہار کے لوگوں نے اپنی زبردست حمایت اور اٹل بھروسے کے ساتھ پورے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔‘‘
آر جے ڈی کے ’’مسلم،یادو‘‘ ووٹ بینک پر طنز کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریاست میں کچھ پارٹیوں کا پرانا ’’ایم وائی فارمولا‘‘ آج شکست سے دوچار ہوا ہے اور اس کی جگہ نیا ’’مثبت ایم وائی…مہلا اور یوتھ‘‘ فارمولا لے چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بہار نوجوان آبادی والے بڑے ریاستوں میں شامل ہے، اور یہ نوجوان ہر مذہب اور ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’’ان کی خواہشات اور خوابوں نے جنگل راج والوں کے فرقہ وارانہ ایم وائی فارمولے کو زمین بوس کر دیا۔‘‘
مودی نے کہا کہ بہار کے ووٹروں، خاص طور پر نوجوانوں نے انتخابی فہرست کی تطہیر کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس عمل میں بھرپور تعاون کیا ہے۔
وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے شفاف اور پرامن انتخابات کرائے، جبکہ ’’جنگل راج‘‘ کے دور میں انتخابات کے دوران تشدد معمول تھا۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ریاستی انتخابات میں ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے حق میں جانبداری کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بہار میں این ڈی اے کی بھاری جیت نے پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں بھی اسی طرح کی کارکردگی کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں اس وقت ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی برسراقتدار ہے۔
اپنی تقریباً ایک گھنٹے کی تقریر کے اختتام پر وزیراعظم مودی نے کہا’’گنگا کا دریا بہار سے ہو کر بنگال جاتا ہے۔ اور بہار کی جیت نے، اسی دریا کی طرح، بنگال میں ہماری جیت کی راہ بھی ہموار کر دی ہے‘‘۔
قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے بہار انتخابات میں۲۴۳ میں سے ۲۰۰سے زائد سیٹیں جیت کر فیصلہ کن برتری حاصل کی، جبکہ بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
وزیراعظم مودی نے کہا’’آپ کی امیدیں میرا عزم ہیں اور آپ کے خواب میری تحریک۔ بی جے پی کے لیے اس کے کارکن ہی اس کی اصل طاقت ہیں‘‘۔انہوں نے بہار میں شاندار کارکردگی کا سہرا پارٹی کارکنوں کی محنت اور لگن کے سر باندھا۔
(ندائے مشرق ڈیسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔










