کشمیر کی سرزمین صدیوں سے اپنی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی انفرادیت اور زرعی تنوع کے لیے مشہور رہی ہے۔ انہی خصوصیات میں زعفران ایک ایسی نعمت ہے جس نے نہ صرف وادی کی معیشت کو جِلا بخشی بلکہ اسے عالمی شہرت عطا کی۔ پانپور، کھریو اور پلوامہ کے زرخیز کھیت جب زعفرانی پھولوں سے ڈھک جاتے تھے، تو یہ مناظر نہ صرف کسانوں کے لیے خوشحالی کی علامت ہوتے بلکہ کشمیر کی ثقافتی پہچان بھی بن جاتے۔ لیکن آج وہی زعفران جس کی خوشبو کبھی ہوا میں رچی بسی تھی، زوال کے دہانے پر کھڑا ہے۔
یہ زوال اچانک نہیں آیا۔ اس کے پیچھے برسوں کی غفلت، ناقص منصوبہ بندی، انتظامی لاپرواہی، ماحولیاتی تبدیلی اور سرکاری پالیسیوں کی کمزور عمل آوری کارفرما ہے۔ وادی کے کاشتکاروں کی گواہیاں محض جذباتی شکایتیں نہیں بلکہ ایک بگڑتے ہوئے زرعی بحران کی عملی تصویریں ہیں۔
سال۲۰۱۰۔۱۱میں مرکزی حکومت نے زعفران مشن کے تحت کروڑوں روپے کی خطیر رقم مختص کی۔ مقصد یہ تھا کہ آبپاشی کے جدید نظام سے فصل کو خشک سالی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے، زمین کی زرخیزی بڑھائی جائے، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زعفران کی پیداوار میں تسلسل لایا جائے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج، پندرہ برس گزرنے کے بعد بھی، وہی بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں ‘پانی کی کمی، ناکارہ آبپاشی نظام، زمین کی زرخیزی میں کمی، اور کسانوں کی بڑھتی مایوسی۔
کاشتکاروں کے مطابق متعلقہ محکمے اس مشن کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ منصوبے کے آغاز میں جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں، وہ بدانتظامی اور مالی بدعنوانی کی نذر ہو گئیں۔ آبپاشی کے پائپ بچھائے تو گئے مگر ان میں پانی کبھی نہیں بہا۔ جن اسکیموں کے افتتاح کے ساتھ تصویریں اتاری گئیں، وہیں آج بنجر زمینیں اپنی بقا کے لیے ترس رہی ہیں۔
زعفران کی فصل فطری طور پر ایک نازک فصل ہے۔ اسے معتدل سردی، مخصوص نمی اور ہلکی بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی نے ان تمام توازنات کو درہم برہم کر دیا ہے۔ کبھی وقت سے پہلے بارش، کبھی اچانک خشک سالی، تو کبھی غیر متوقع درجہ حرارت… ان سب نے زعفرانی پھولوں کی افزائش پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں برف باری میں واضح کمی ہوئی ہے جس سے زمین کی نمی ختم ہو گئی۔ زمین کی زرخیزی گھٹنے سے پھولوں کی قوتِ افزائش کم ہو گئی ہے۔ کسانوں کی یہ بات بالکل درست ہے کہ قدرتی حالات اگرچہ کبھی کبھار سازگار ہوتے ہیں، مگر زمین اب اپنی سابقہ پیداواری صلاحیت کھو چکی ہے۔ یہ صورت حال صرف موسمی مسئلہ نہیں، بلکہ زمین کی طویل مدتی حیاتیاتی کمزوری کی علامت ہے۔
زعفران کے کھیت صرف قدرتی عوامل سے متاثر نہیں ہو رہے، انسانی لالچ نے بھی اس صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پانپور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں غیر قانونی طور پر مٹی نکالنے، تعمیرات کرنے اور فیکٹریوں کی آلودگی پھیلانے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ زرخیز زمین کو تجارتی استعمال میں لانا ایک ایسا جرم ہے جس کے اثرات صرف فصل پر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی پڑیں گے۔
زعفران کے تحفظ کے لیے سابق حکومتوں نے کچھ عرصہ پابندیاں ضرور عائد کی تھیں، مگر آج وہ سب محض کاغذوں میں درج ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اراضی مافیا مضبوط، جبکہ محکمہ زراعت اور مقامی انتظامیہ کمزور دکھائی دیتی ہے۔ کارروائیاں صرف میٹنگوں اور پریس ریلیزوں تک محدود رہتی ہیں۔
زعفران مشن جیسے اہم منصوبے کے باوجود اگر کسان آج اپنی محنت کے صلے میں مایوسی کا سامنا کر رہے ہیں، تو یہ صرف ماحولیاتی عوامل کا نہیں بلکہ انتظامی کمزوری کا بھی نتیجہ ہے۔
محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان، فنڈز کے استعمال میں غیر شفافیت، اور نگرانی کے نظام کی کمزوری … یہ وہ خامیاں ہیں جنہوں نے زعفران کی صنعت کی بنیادیں ہلا دیں۔
کسان بار بار اپنی مشکلات حکومتی دفاتر کے دروازوں تک لے کر جاتے ہیں، مگر وہاں سے انہیں تسلی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ عملی اقدامات ناپید ہیں۔ آبپاشی کا نظام محض ایک فائل بن چکا ہے جس پر وقتاً فوقتاً دستخط تو ہوتے ہیں، مگر پانی نہیں بہتا۔
زعفران کی کاشت مہنگی محنت اور صبر آزما عمل ہے۔ ایک کنال زمین پر زر کثیر خرچ کرنے کے باوجود کسانوں کو اب صرف دو سے تین فیصد پیداوار مل رہی ہے۔ یہ زرعی خسارہ کسی عام کاروباری نقصان کی طرح نہیں۔ یہ اْن ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے جو نسلوں سے اسی فصل پر انحصار کرتے آئے ہیں۔
کاشتکار نہ صرف مالی طور پر تباہ ہو رہے ہیں بلکہ ان کے اندر مایوسی اور بد اعتمادی گہری ہو چکی ہے۔ ‘‘اب اگر حکومت بھی کچھ کرے، تو شاید دیر ہو چکی ہے’’، یہ جملہ صرف شکایت نہیں، ایک اجتماعی شکست کا اعلان ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔سب سے پہلے، محکمہ زراعت اور محکمہ آبپاشی اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مابین رابطے کی کمی نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ دوسرے، ماحولیاتی محکمے نے آلودگی اور غیر قانونی زمین کھدائی کے خلاف عملی قدم نہیں اٹھایا۔ تیسرے، حکومت کی مجموعی ترجیحات میں زعفران کی صنعت کو وہ اہمیت نہیں ملی جس کی یہ مستحق تھی۔
کاشتکاروں کو جدید تربیت اور مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ نئی تکنیکوں سے فصل کو بہتر بنا سکیں۔ زعفران کی زمینوں میں نامیاتی کھاد اور مٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر منصوبے بنائے جائیں۔حکومت کو چاہیے کہ زعفران انڈسٹری کو خصوصی اقتصادی زون کے طور پر تسلیم کرے، تاکہ اس میں نجی سرمایہ کاری آئے اور کسانوں کو جدید مشینری اور مارکیٹنگ سہولتیں میسر ہوں۔





