نئی دہلی، 18 اکتوبر (یو این آئی) خواتین ورلڈ کپ 2025 میں امپائرنگ کے معیار پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے پہلے ڈھائی ہفتوں میں کئی متنازع فیصلوں نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ بحث ڈی آر ایس کے استعمال کو لے کر رہی ہے، جو خواتین کرکٹ میں محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے امپائروں کے تجربے اور ڈی آر ایس پروٹوکول کی سمجھ بوجھ پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
سب سے زیادہ بحث انگلینڈ اور بنگلہ دیش کے میچ میں دیکھنے کو ملی ، جب ہیدر نائٹ کو تین بار آؤٹ ہونے کے باوجود موقع ملا۔ ایک موقع پر شورنا اختر نے ان کا کیچ اس وقت پکڑا جب نائٹ صرف 13 رنز پر تھیں اور انگلینڈ 179 رنز کا تعاقب کر رہا تھا۔
نائٹ خود پویلین کی جانب بڑھ چکی تھیں، لیکن ٹی وی امپائر گایتری وینوگوپالن نے اسے ناکافی ثبوت بتاتے ہوئے ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ اس سے قبل ایک کٹ بی ہائنڈ آؤٹ کا فیصلہ بھی تبدیل کیا گیا تھا، جب تیسرے امپائر نے کہا کہ گیند بلّے سے نہیں بلکہ پیڈ سے لگ کر کیپر تک گئی تھی۔
کمنٹیٹر ناصر حسین نے بتایا کہ میچ کے بعد نائٹ نے کہا، ’’مجھے لگا میں آؤٹ ہو چکی ہوں اور پویلین واپس جا رہی تھی۔ شاید میں ایک ہی میچ میں اتنی بار کبھی آؤٹ نہیں ہوئی۔‘‘ بعد ازاں نائٹ نے 79 رنز کی ناقابلِ تسخیر اننگز کھیل کر انگلینڈ کو جیت دلائی، جو بنگلہ دیش کے لیے مایوس کن رہا۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ میں ایک اور تنازع اُس وقت کھڑا ہوا جب پاکستانی اوپنر منیبہ علی کو غیر معمولی حالات میں رن آؤٹ دیا گیا۔ پہلے ٹی وی امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا، لیکن بعد میں فیصلہ بدل کر آؤٹ قرار دیا گیا۔
یہ گڑبڑ اس وجہ سے ہوئی کہ امپائر نے ابتدا میں تمام زاویوں سے فوٹیج نہیں دیکھی تھی۔ بعد میں اضافی زاویوں سے ویڈیو دیکھنے کے بعد انہیں رن آؤٹ کی واضح جھلک ملی، جس پر فیصلہ تبدیل کیا گیا۔ اس سے میدان میں الجھن کی فضا پیدا ہو گئی اور منیبہ علی کے ساتھ کپتان فاطمہ ثنا نے چوتھے امپائر سے وضاحت طلب کی۔
ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے میچ میں بھی ایک متنازع فیصلہ دیکھنے کو ملا، جب ہندوستان نے سنے لوس کے خلاف ایل بی ڈبلیو کا ریویو لیا۔ تیسرے امپائر کینڈس لا بورڈ نے الٹرا ایج پر ہلکی سی حرکت کو بلّے سے لگا ہوا مان لیا، حالانکہ سائیڈ اینگل ری پلے میں صاف دکھ رہا تھا کہ گیند اور بلّے کے درمیان فاصلہ ہے۔ نتیجتاً لوس کو ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا۔
ہندوستان اور آسٹریلیا کے میچ میں اِسنیہ رانا کے ذریعے ایلیسا ہیلی کا لیا گیا کیچ بھی بحث کا موضوع بنا۔ تیسرے امپائر جیکولین ولیمز نے پہلے کہا کہ گیند زمین کو چھو رہی ہے، لیکن بعد میں فیصلہ بدل کر کیچ کو درست قرار دے دیا۔
ناصر حسین نے کہا، اگر آپ ان ری پلے کو بار بار دیکھیں، تو آپ دیکھیں گے کہ گیند انگلیوں کے نیچے جاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن تیسرے امپائر نے محدود زاویوں سے فوٹیج دیکھی اور اپنے تجربے کی بنیاد پر فیصلہ کیا کہ انگلیاں گیند کے نیچے تھیں۔ ایسے فیصلوں میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ بار بار ری پلے دیکھنے سے الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔
اس ورلڈ کپ میں اب تک 10 امپائرز نے ٹی وی امپائر کا کردار ادا کیا ہے، لیکن ان میں صرف تین سو ریڈفرن (42)، ایلوس شیریڈن (25) اور کِم کاٹن (24) کے پاس 20 سے زیادہ میچوں میں ڈی آر ایس کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔ وہیں کینڈس لا بورڈ، این جننی اور سارا ڈمبانیناوا نے اس سے قبل کسی ون ڈے میچ میں ڈی آر ایس کے ساتھ امپائرنگ نہیں کی تھی۔
مجموعی طور پر 10 میں سے پانچ امپائروں نے پانچ سے کم میچوں میں ڈی آر ایس کا استعمال کیا ہے، جس سے تجربے کی کمی واضح ہو رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، اس ورلڈ کپ میں آن فیلڈ فیصلوں کو پلٹنے کی شرح بھی بڑھی ہے، اب تک 36 اننگز میں 25 فیصلے بدلے گئے ہیں، یعنی فی اننگز اوسط 0.67، جبکہ 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ میں یہ شرح 0.46 تھی۔
آئی سی سی نے امپائروں کے تجربے یا ڈی آر ایس سے متعلق غلطیوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کسی ٹیم نے ان فیصلوں پر باضابطہ شکایت درج کرائی ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق، آئی سی سی کے امپائر مینیجر شان ایزی ٹورنامنٹ کے دوران متعدد مقامات پر موجود رہے ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔






