ممبئی، 8 اکتوبر (یو این آئی) دنیا کے سرفہرست ٹی 20 گیند باز ورون چکرورتی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے ٹیم میں "جرات مندانہ ذہنیت” کو فروغ دیا ہے، جہاں "شکست کوئی آپشن نہیں ہوتا۔” انہوں نے تقریباً تین سال ٹیم سے باہر رہنے کے بعد اپنی بین الاقوامی واپسی کا کریڈٹ گمبھیر اور ٹی20 کپتان سوریہ کمار یادو کوبھی دیا۔
ورون نے منگل کو ممبئی میں سی ایٹ کرکٹ ریٹنگ ایوارڈز کے موقع پر کہا، ”میں (گمبھیر) ان کے بارے میں ایک بات ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ ٹیم میں ایک جرات مندانہ ذہنیت لے کرآتے ہیں، جہاں شکست کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ آپ کو صرف اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور میدان پر اپنا سب کچھ جھونک دینا ہوتا ہے اور بعد میں، جو بھی ہوتا ہے، ہوتا ہے۔ جب وہ موجود ہوتے ہیں، تو کوئی عمومیت نہیں رہتی – آپ میدان میں اوسط نہیں ہو سکتے، ایسا میں محسوس کرتا ہوں۔
ورون نے جولائی 2021 میں ہندوستان کے لئے ڈیبیو کیا تھا لیکن 2021 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں سخت مہم کا سامنا کرنے کے بعد، انہیں ٹیم سے باہر کردیا گیا اور اکتوبر 2024 میں ہی وہ ہندوستان کے لیے دوبارہ کھیلے۔
اس کے بعد سے، ورون ہندوستان کی ٹی20 الیون میں باقاعدگی سے شامل رہے ہیں اور انہوں نے اپنا ون ڈے ڈیبیو بھی کیا ہے اور اس سال کے شروع میں ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیاتھا۔
"جب میں نے دوبارہ واپسی کی، تو سوریہ اور جی جی (گمبھیر) نے مجھ سے بات کی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم آپ کو وکٹ لینے والے گیندبازمیں ایک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اور انہوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا مجھے اس کا کریڈٹ دینا پڑے گا۔
میں تین سال سے زائد عرصے تک ٹیم سے باہر تھا، لیکن آئی پی ایل میں میری کارکردگی مسلسل اچھی رہی۔ انہوں نے اسے پہچانا اورمجھے ٹیم میں شامل کیا، یہ میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔
آسٹریلیا کے دورے کے لیے ہندوستان کے ون ڈے اسکواڈ سے باہر کیے گئے ورون نے ان چیزوں کے بارے میں بات کی جن پر گمبھیر چاہتے ہیں کہ وہ ون ڈے کرکٹ میں اپنے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔
"بنیادی طور پر بات چیت لمبے اسپیل کی گیند کرنے کے بارے میں تھی۔ کیونکہ ٹی20 میں آپ لگاتار زیادہ سے زیادہ دو اوور گیندبازی کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک روزہ میں، آپ کو لگاتار پانچ سے چھ اوورز کروانے پڑتے ہیں، جس پر میں نے کام کیا اور چیمپئنز ٹرافی میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا اور وہ چاہتے ہیں کہ میں ڈومیسٹک سرکٹ میں آرڈر کو تھوڑا اونچا کروں اور اپنی بیٹنگ کو بہتر کروں۔”
ورون نے ساتھی اسپنر کلدیپ یادو کی بھی تعریف کی، جو ایشیا کپ میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے گیندباز تھے۔
ورون نے کہا، "کلدیپ یقینی طور پر ہمارے موجودہ اسکواڈ میں سب سے زیادہ تجربہ کار گیند بازوں میں سے ایک ہے اور انہوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں 95 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتا ہوں اور وہ تقریباً 85 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے، اس لیے ہم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان کے پاس زیادہ ریوز اور زیادہ ٹرن ہیں، میرے پاس زیادہ رفتار اور باؤنسر ہے، اس لیے اب تک یہ ہمارے لیے اچھا کام کر رہا ہے۔ امید ہے کہ ہم ورلڈ کپ میں اسی طرح جاری رکھ سکیں گے۔”




