لندن ، 19 ستمبر (یو این آئی) ٹینس کے لیجنڈ کھلاڑی بجور بورگ کا کہنا ہے کہ وہ ’انتہائی تیزی سے پھیلنے والے‘ پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے بعد سے’دن بہ دن ، سال در سال‘‘ کے لحاظ سے زندگی گزارہے ہیں ۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، 69 سالہ بجورنے اپنی سوانح عمری کے آخری باب میں اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری ’انتہائی آخری مرحلے میں ہے‘ لیکن وہ ہر روز ومبلڈن فائنل کی طرح لڑتے رہیں گے‘۔
سابق عالمی نمبر ایک بجورگ نے 25 سال کی عمر میں غیر متوقع طور پر ریٹائر ہونے سے پہلے 11 گرینڈ سلیم خطاب جیتے، جن میں لگاتار پانچ ومبلڈنز شامل تھے۔
سویڈن نے اعتراف کیا کہ 2024 میں ایک آپریشن کے بعد یہ بیماری اب قابو میں ہے، لیکن انہوں نے تشخیص کو ’نفسیاتی طور پر مشکل‘ قرار دیا۔
بجورگ نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا ’میں نے ڈاکٹر سے بات کی اور انہوں نے کہا کہ یہ واقعی خراب ہے۔‘
بجورگ کئی برسوں سے پروسٹیٹ کینسر کے لیے چیک اپ کرا رہے تھے ۔ ڈاکٹروں کومرض میں 2023 میں کوئی پیچیدگی نظر آئی تھی۔
ڈاکٹروں نے مزید ٹیسٹ کروانے کا کہا، لیکن بجورگ لیور کپ ٹینس ٹورنامنٹ میں بطور کپتان شرکت کے لیے وینکوور چلے گئے اور اس کے بعد مزید ٹیسٹوں کے لیے واپس آئے۔
تاہم انہیں امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اسے دن بہ دن ، سال در سال ، امید سے لیتا ہوں






