جموں و کشمیر میں قدرتی آفات کوئی نئی بات نہیں۔ یہاں کی جغرافیائی ساخت، پہاڑی سلسلے، تنگ وادیوں اور ندی نالوں کی موجودگی ہمیشہ سے زندگی کو چیلنج کرتی آئی ہے۔ لیکن حالیہ بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ کس طرح چند گھنٹوں کی طوفانی بارش پورے نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔ زمین کھسکنے اور شاہراہ بہہ جانے سے وادی کا باقی ملک سے رابطہ ٹوٹ گیا اور وہی پرانا المیہ دہرایا گیا: جموں-سرینگر ہائی وے کی بندش نے عوام کو بنیادی ضروریات کے لیے ترسنے پر مجبور کر دیا۔
یہ شاہراہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ وادی کے لیے شہ رگ ہے۔ وادی کی ۹۰ فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ جب یہ راستہ بند ہوتا ہے تو فوری طور پر بازاروں میں قلت کا شور بلند ہو جاتا ہے۔ سبزیاں تین گنا مہنگی ہو جاتی ہیں، آٹے اور چاول کی بوریوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور دودھ، گوشت اور تیل جیسی بنیادی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ غریب مزدور اور تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ ان کے پاس نہ تو ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اور نہ ہی مہنگائی سہنے کی طاقت۔
یہ سوال ہر بار اٹھتا ہے کہ جب قدرتی آفات یہاں کی مستقل حقیقت ہیں تو پھر انتظامیہ ہر بار کیوں حیران دکھائی دیتی ہے؟ کیوں ہر برس یہی کہا جاتا ہے کہ ’صورتحال غیر متوقع تھی‘؟ کیا یہ تسلیم نہیں کہ کشمیر میں بارش، برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ معمول کا حصہ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر متبادل انتظامات کیوں نہیں کیے گئے؟ کیا ایک خطے کی پوری معیشت اور عوام کی زندگی محض ایک سڑک پر انحصار کرے گی؟
حالیہ دنوں میں جب شاہراہ بند ہوئی تو سبزیاں جو کل تک ۳۰ روپے کلو تھیں، ۱۰۰ روپے سے اوپر پہنچ گئیں۔انڈوں اور مرغ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ۔ یہ سب محض بارش یا بادل پھٹنے کا نتیجہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامی ہے۔ اگر بروقت چیکنگ ہوتی، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جاتی اور قیمتوں پر سخت کنٹرول رکھا جاتا تو عوام کو اس قدر مشکلات نہ سہنی پڑتیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دکاندار اور سپلائر ایسے مواقع کو منافع خوری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی کمزور گرفت انہیں کھلا میدان دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام قدرتی آفات کا دوہرا بوجھ اٹھاتے ہیں: ایک طرف نقصان اور بندش، دوسری طرف مہنگائی اور استحصال۔
حکومت کی ذمہ داری یہاں دو سطحوں پر بنتی ہے۔ پہلی سطح پر، شاہراہ کی جلد بحالی کے لیے جدید مشینری اور تیز رفتار اقدامات کیے جائیں۔ دوسری سطح پر، مارکیٹ میں اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔ محض بیانات اور اجلاسوں سے عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ انہیں اصل ریلیف تب ملے گا جب دکاندار اضافی قیمت نہ لے سکیں اور ضروری اشیاء ہر گھر تک پہنچ سکیں۔
اسی طرح ایمرجنسی اسٹاک کا نظام بھی ناکافی ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ حکومت ہر ضلع میں بڑے گودام اور کولڈ اسٹوریج قائم کرے جہاں کم از کم دو ماہ کی اشیائے ضرورت کا ذخیرہ ہر وقت موجود رہے۔ جب شاہراہ بند ہو تو وہی ذخیرہ مارکیٹ میں فراہم کیا جائے۔ اس سے نہ صرف قیمتوں میں استحکام رہے گا بلکہ ذخیرہ اندوزی کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول صرف کاغذی کارروائی نہ ہو۔ ایک مضبوط میکانزم تیار ہو جہاں روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ چیکنگ ہو، خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے لگیں اور عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔ اس کے لیے ایک شفاف شکایت نظام بھی ضروری ہے تاکہ لوگ مہنگائی یا بلیک مارکیٹنگ کی اطلاع دے سکیں۔
اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ وادی میں جب شاہراہ بند ہوتی ہے تو سب سے زیادہ تکلیف غریب اور متوسط طبقے کو ہوتی ہے۔ امیر طبقہ چاہے ہوائی جہاز سے سامان منگوا لے یا اضافی دام ادا کر کے خریداری کر لے، لیکن مزدور، کسان اور چھوٹے ملازم کے لیے یہ صورتحال کسی قیامت سے کم نہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو حکومت کی اصل ذمہ داری ہے اور جسے ہر قیمت پر ریلیف ملنا چاہیے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت محض وقتی اقدامات نہ کرے بلکہ ایک طویل مدتی پالیسی بنائے۔ شاہراہ کی بار بار بندش ایک سبق ہے کہ صرف ایک راستے پر انحصار خطرناک ہے۔ اگر اس سے متبادل راستے، ریل نیٹ ورک اور ایمرجنسی اسٹاک کا نظام نہ بنایا گیا تو ہر برس عوام اسی اذیت سے گزرتے رہیں گے۔
قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس میں نہیں، لیکن ان کے اثرات کو کم کرنا ممکن ہے۔ اس کے لیے سیاسی عزم، انتظامی سنجیدگی اور عوامی شمولیت کی ضرورت ہے۔ عوام اپنی قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن وہ یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ آخر کب تک وہ ناقص منصوبہ بندی اور کمزور نظام کی سزا بھگتیں گے؟
یہ اداریہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ شاہراہ کی بندش قدرتی آفت ہے لیکن مہنگائی اور اشیاء کی قلت انتظامیہ کی ناکامی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کرے، عوام کے لیے رعایتی نرخوں پر راشن فراہم کرے، اور لمبے عرصے کے لیے ایسے اقدامات کرے جو وادی کو ایک سڑک پر انحصار کرنے سے آزاد کریں۔
وادی کے لوگ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حوصلہ دکھا رہے ہیں۔ اب یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا انہیں پھر تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ان کے دکھ درد کو سمجھے گی اور اس بار واقعی کوئی ایسا قدم اٹھائے گی جو آنے والی نسلوں کو اس اذیت سے بچا سکے۔




