سرینگر//
شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں واقع خوبصورت وادی گریز کی سیاحتی وسعت و گنجائش کے فروغ کیلئے ایک اسٹیڈی (تحقیق) نے ایک ٹنل کی تعمیر کی سفارش کی ہے تاکہ یہ وادی ایک ہمہ موسمی سیاحتی مقام بن سکے۔
اسٹریٹجک لحاظ سے اہم وادی گریز کو، جو پیر پنجال رینج کی بلند چوٹیوں سے سے گھری ہوئی ہے، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہونے کے باعث کئی برسوں تک پہنچ سے باہر رہنے کے بعد حکام نے گذشتہ کچھ برسوں سے سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے۔
سرینگر سے۱۳۵ کلو میٹر دوری پر واقع وادی گریز میں امن سایہ فگن رہنے سے سیاحوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق سال۲۰۲۳میں سیاحوں کی تعداد بڑھ کر۴۶ ہزار۳۸ ہوگئی ہے جو سال ۲۰۲۲میں صرف۱۲ ہزار۴سو ۷۲ تھی جبکہ سال ۲۰۱۹۔۲۰۲۰میں ۵ہزار سیاح گریز کی سیر سے لطف اندوز ہوگئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال گذشتہ روزانہ بنیادوں۲ہزار سے۲۲سو سیاح گریز کی سیر کرتے تھے۔
گریز میں سیاحوں کے بڑھتے ہوئے رش کے پیش نظر اس سرحدی علاقے میں سیاحوں کی سہولت کیلئے کئی ’ہوم سٹیز‘ ،کیمپنگ سائیٹس، ہوٹلوں اور ریستوران کو قائم کئے گئے ہین جس سے لوگوں کا روز گار بڑھ گیا۔
امپیکٹ اسٹیڈی نے گریز وادی کی زرعی اراضی کو تبدیل کرنے پر پابندی لگانے کی بھی سفارش کی ہے۔یہ نتائج اس وقت امنے آئے ہیں جب ضلع انتظامیہ بانڈی پورہ نے پالیسی ایڈوکیسی ریسرچ سینٹر (پی اے آر سی) کے تعاون سے وادی گریز میں سیاحت کے فروغ کے لئے مختلف حکومتی مداخلتوں کے اثرات کا مطالعہ کرنے کی پہل کی ہے۔
اسٹیڈی نے سفارش کی ہے کہ گریز کو ہمہ موسمی سیاحتی مقام بنانے کیلئے سال بھر کیلئے سڑک رابطے کی ضرورت ہے جس کیلئے بانڈی پورہ سے گریز تک ایک سرنگ تعمیر کرنا ناگزیز ہے۔
گریز کو بانڈی پورہ کے ساتھ جوڑنے والا واحد سڑک رابطہ راز دان پاس سے گذرتا ہے جو موسم سرما میں بھاری برف باری کے باعث بند رہتا ہے۔وادی گریز قدیم شاہراہ سلک روٹ پر پڑتی ہے جو کشمیر کو گلگت کے ساتھ جوڑتا ہے۔
تحقیق نے اتوتھو سے باگتور کے درمیان ایک روپ وے بنانے کی بھی سفارش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف شعبہ سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ علاقے میں رابطہ بڑ جائے گا نیز کرگل کی طرف وادی مشکی تک گریز ، دراس روڈ کو کھولنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔اسٹیڈی کے مطابق سال۲۰۲۲ میں انفراسٹرکچر کے بڑھاوے کیلئے۳۵ کروڑ روپے اور گریز میں سیاحت کے فروغ کیلئے۲۲ لاکھ رویے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بانڈی پورہ، گریز روڈ پر سفر کرنے کیلئے سیاحوں کی طرف سے روزانہ ۱۶۰کالیں موصول ہوتی تھیں۔اسٹیڈی سے ظاہر ہوا ہے کہ دہلی، لکھنو، پونے، حیدر آباد، بنگلورو، گوہاٹی، تھروانن تھا پورم اور چنئی کے ٹور آپریٹروں نے گریز سیاح بھیجے ہیں۔
اسٹیڈی میں غیر ملکی سیاحوں کو بھی اجازت دینے کی سفارش کی گئی ہے اور جو بھی پالیسی اس میں مانع آتی ہے اس پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔








