اننت ناگ؍۲۲؍اکتوبر
اننت ناگ میں مجوزہ۲۵۰ بستروں پر مشتمل زچگی اور بچوں کی نگہداشت کے اسپتال کے لیے ابھی تک جگہ کا حتمی انتخاب نہیں ہو سکا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جنگلات منڈی میں ابتدائی طور پر نشان زد کی گئی جگہ اسپتال کی تعمیر کے لیے ناکافی پائی گئی ہے۔
ضلع میں جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کے لیے رقومات دستیاب ہیں اور متبادل مقام کو حتمی شکل دینے کے بعد حکومت جلد تعمیراتی کام شروع کرنے کی امید رکھتی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ مزید تاخیر سے بچنے کے لیے منتخب عوامی نمائندے، وزیر صحت، محکمہ صحت کے افسران اور سول سوسائٹی کے ارکان باہمی مشاورت سے اسپتال کے مقام کا فیصلہ کریں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’محکمے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جنگلات منڈی میں مجوزہ اسپتال کی تعمیر کے لیے کافی جگہ دستیاب نہیں ہے۔ اسی لیے ہم کسی دوسرے مناسب مقام کی تلاش کر رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ منصوبے کے لیے رقومات دستیاب ہیں اور جگہ کا انتخاب مکمل ہوتے ہی تعمیراتی کام شروع کرنے کی امید ہے۔
عمرعبداللہ کے مطابق مجوزہ اسپتال سے جنوبی کشمیر میں زچگی اور بچوں کی صحت کی نگہداشت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حاملہ خواتین، نومولود بچوں اور بچوں کے علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی آسان ہونے کی توقع ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اننت ناگ میں مجوزہ منی سیکریٹریٹ کے قیام کے لیے بھی ابھی تک مقام کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام اراکین اسمبلی نے یہ معاملہ اٹھایا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر منتخب نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے مشاورت کے بعد دستیاب متبادل مقامات کا جائزہ لیں گے اور انتظامی عمارت کے قیام کے لیے مناسب جگہ کا فیصلہ کریں گے۔
عمر عبداللہ کے مطابق زیر غور متبادل مقامات میں موجودہ ڈپٹی کمشنر دفتر کا احاطہ بھی شامل ہے۔ اگر اس مقام کا انتخاب کیا جاتا ہے تو تعمیراتی کام کے دوران سرکاری دفاتر کے لیے متبادل انتظامات بھی کرنا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’منی سیکریٹریٹ کے مقام کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ڈپٹی کمشنر، اراکین اسمبلی اور سول سوسائٹی کے نمائندے اس معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے اور اس کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔‘‘
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضلع اننت ناگ میں ترقیاتی کاموں اور جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے۵۲کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور بعض منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔
۔۔۔۔۔(مشرق خبر )










