سینٹ پیٹرزبرگ، 21 اکتوبر (یو این آئی) امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کی۔ واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔
یہ ملاقات وٹکوف کی ناروے میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات چیت کے ایک روز بعد ہوئی ہے، جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مثبت قرار دیا تھا۔
اعلیٰ سطح کی یہ بات چیت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ماسکو اور کیف کو مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے قریب لانے کی تازہ کوششوں کا حصہ ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، وٹکوف اور پوتن کے درمیان ملاقات بدھ کی صبح شروع ہوئی۔ توقع ہے کہ اس دوران ناروے میں ہونے والی بات چیت کے نتائج، امن کے مجوزہ لائحہ عمل اور تنازع ختم کرنے کے ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
واشنگٹن ان سفارتی کوششوں کے ذریعے یہ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا دونوں فریقوں کے موقف میں قربت پیدا کی جاسکتی ہے۔ تاہم، یوکرین کی علاقائی سالمیت، مستقبل کی سلامتی کی ضمانتوں اور کیف کے فوجی ڈھانچے اور بین الاقوامی اتحادوں سے متعلق روس کے مطالبات پر دونوں جانب گہرے اختلافات برقرار ہیں۔
وٹکوف سے ملاقات کے بعد اوسلو میں گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کے مسلسل حملوں سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور لاکھوں یوکرینی بچوں کا بچپن متاثر ہو رہا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، ہم اپنے لوگوں کو بھی کھو رہے ہیں اور وقت بھی ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایسے تصفیے کی فوری ضرورت پر زور دیا جو یوکرین کو روس کی مزید جارحیت سے محفوظ رکھ سکے۔
یوکرینی صدر نے واضح کیا کہ کسی بھی امن معاہدے میں طویل مدتی اور قابلِ اعتماد سلامتی کی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں، تاکہ روس دوبارہ یوکرین پر حملہ نہ کرسکے۔ کیف اور اس کے یورپی شراکت داروں کا موقف ہے کہ یوکرین کی مستقبل کی سلامتی کے لیے ٹھوس انتظامات کے بغیر محض جنگ بندی کافی نہیں ہوگی۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے زیلنسکی پر زور دیا ہے کہ وہ ماسکو کے ساتھ معاہدے تک پہنچیں۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ یوکرین کو مذاکرات کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔ تاہم، زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کی سرزمین، خودمختاری اور قومی سلامتی سے متعلق کسی بھی بات چیت میں کیف کی براہِ راست شرکت ضروری ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ناروے میں منگل کو ہونے والی بات چیت کے دوران واشنگٹن اور کیف نے اہم پیش رفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین نے نئی تجاویز پیش کیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ عہدیدار کے مطابق، سفارتی عمل کے اگلے مراحل کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان ”مضبوط ہم آہنگی” پائی جاتی ہے۔









