منگل, اکتوبر 20, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’ایل جی کی واپسی پرکابینہ میں توسیع ہوگی‘

ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘ وہ بیمار تھے‘جب لیفٹیننٹ گورنر واپس آئیں گے تو حکومت میں توسیع ہوگی:فاروق عبداللہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-20
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
ریاستی درجے کی متوقع حمایت نہ  ملنے پر فاروق انڈیا بلاک سے مایوس
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

’ہریانہ مسافر بس حملے پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت کارروائی کرنے پر زور دیا ہے‘

سرینگر؍۱۹؍اکتوبر

                نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں وزراء کی کونسل میں توسیع لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی واپسی کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔

                ضلع بڈگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا، ’’لیفٹیننٹ گورنر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ بیمار تھے۔ جب لیفٹیننٹ گورنر واپس آئیں گے تو حکومت میں توسیع ہوگی۔‘‘

متعلقہ

دسویں جماعت کے امتحانات شروع‘۹۷ہزار سے زائد طلبہ شریک

محبوبہ کی وزیر داخلہ سے جموں کشمیر کے فنکاروں کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرنے کی اپیل

                ان کا یہ بیان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی وزراء کی کونسل میں طویل عرصے سے زیرِ انتظار توسیع کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے۱۶؍ اکتوبر کو اقتدار میں اپنے دو سال مکمل کر لیے ہیں۔

                اکتوبر۲۰۲۴ میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت نے ابھی تک کابینہ میں ردوبدل نہیں کیا ہے اور مجوزہ توسیع سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

                ہریانہ میں کشمیر کی دو مسافروں گاڑیوں پر پتھراؤ کے واقعات پر ڈاکٹر فاروق کاکہنا تھا ’’ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کرنے پر زور دیا ہے اور حملے میں ہوئے نقصان کے ازالے کے لیے معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بعض شرپسند عناصر ملک میں امن و امان کو بگاڑنے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے حکام کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

                نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حال ہی میں حکومت کے اندر وزراء کے استعفوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔

                چودھری نے جموں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’کسی وزیر نے استعفیٰ پیش نہیں کیا ہے۔‘‘

                نیشنل کانفرنس کی انتخابی حلیف کانگریس بھی کابینہ میں توسیع سے متعلق بحث کا اہم حصہ رہی ہے۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے کانگریس کو کابینہ میں ایک وزارت دینے کی پیشکش کی تھی، تاہم کانگریس نے حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ پارٹی نے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال ہونے تک حکومت کو باہر سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

                اس سے قبل۷؍اکتوبر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ اپنے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے ساتھ مشاورت کے بعد وزراء کی کونسل میں توسیع کے بارے میں جلد فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔

                عمرعبداللہ کی مشکلات کے مرکز میں ایک سخت قانونی پابندی ہے۔ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں۹۰رکنی قانون ساز اسمبلی کے ارکان میں سے صرف۱۰ فیصد کو وزیر بنایا جا سکتا ہے، یعنی جموں و کشمیر تنظیمِ نو قانون۲۰۱۹کے تحت وزرا کی زیادہ سے زیادہ تعداد نو مقرر ہے۔ اس وقت وزیراعلیٰ سمیت نو میں سے چھ وزارتیں پُر ہیں۔ ایسے میں کابینہ میں بڑی توسیع کے لیے موجودہ وزرا میں سے بعض کو ہٹانا ناگزیر ہوگا۔

                 اس امکان نے نیشنل کانفرنس کے اندر بے چینی پیدا کر دی ہے اور پارٹی میں اثر و رسوخ کے حصول کے لیے نئی جوڑ توڑ شروع ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پارٹی کے اندر وزارت کے کئی دعویدار موجود ہیں، جبکہ اتحادی جماعت کانگریس نے مزید دو وزارتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی اتحادی جماعتوں، بشمول سی پی آئی (ایم) اور آزاد ارکان کو بھی ساتھ رکھنے کا معاملہ درپیش ہے، جن کی حمایت اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کی عددی قوت برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔

                نیشنل کانفرنس کے اندر کئی نوجوان ارکانِ اسمبلی وزارت میں موقع دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ کئی دہائیوں سے سینئر رہنما وزارت کے عہدوں پر قابض رہے ہیں۔ پارٹی کے وفادار کارکنوں کو نظرانداز کیے جانے، علاقائی نمائندگی میں عدم توازن اور کارکنوں کو اہمیت نہ دیے جانے سے متعلق شکایات نے بھی عمر عبداللہ کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جموں سے شائع ہونے والے ایک روزنامے میں حال ہی میں شائع ہونے والی اس خبر کی نیشنل کانفرنس نے تردید نہیں کی کہ وزیراعلیٰ کابینہ میں ردوبدل کی تیاری کے سلسلے میں تمام وزرا سے استعفے حاصل کر چکے ہیں اور وہ بعض موجودہ وزرا کو ہٹا کر نئے چہروں کو موقع دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

                دوسری جانب کانگریس اپنی داخلی تضادات سے نبردآزما ہے۔ جموں و کشمیر میں پارٹی کی قیادت اس معاملے پر دو حصوں میں منقسم ہے کہ آیا اسے حکومت میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے عوامی طور پر واضح کیا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی تک کانگریس کابینہ میں شامل نہیں ہوگی۔ تاہم، پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد میر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا اصرار ہے کہ اتحاد کو برقرار رکھنے اور سیاسی طور پر مؤثر رہنے کے لیے حکومت میں شامل ہونا ضروری ہے۔ کانگریس نے اسے پیش کی گئی ایک وزارت کے بجائے دو وزارتوں کے علاوہ ایک اہم سرکاری کارپوریشن کی سربراہی کا مطالبہ کیا ہے۔

                اس معاملے میں حتمی فیصلہ نئی دہلی میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو کرنا ہے، جو اس وقت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کی احتجاجی مہم اور دیگر قومی معاملات میں مصروف ہے۔ اس تاخیر نے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور پارٹی کے اندر عہدوں کے حصول کی کشمکش مزید تیز ہو گئی ہے۔

                 طارق حمید قرہ اپنے ہی عوامی موقف کی وجہ سے وزارت میں شامل ہونے کے معاملے پر اخلاقی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ سینئر رہنما پیرزادہ محمد سعید کی گرتی ہوئی صحت انہیں ذمہ داریاں سنبھالنے سے روک رہی ہے۔ ایسے میں باقی تین ارکانِ اسمبلی، نظام الدین بھٹ، عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد، وزارت کے لیے اپنی نامزدگی پر غور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ غلام احمد میر، جو پہلے ہی پارٹی میں قومی سطح کا عہدہ رکھتے ہیں، کو وزارت کے لیے سب سے پہلے دعویدار نہیں ہونا چاہیے۔

۔۔۔۔۔

(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دسویں جماعت کے امتحانات شروع‘۹۷ہزار سے زائد طلبہ شریک

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

برفباری:۳۰؍اور ۳۱ جنوری کے امتحانات ملتوی
اہم ترین

دسویں جماعت کے امتحانات شروع‘۹۷ہزار سے زائد طلبہ شریک

2026-10-20
شاہراہ کی بندش کے دوران   باغبانی کی پیداوار کی بلا رکاوٹ   ترسیل یقینی بنائی جائے:محبوبہ
اہم ترین

محبوبہ کی وزیر داخلہ سے جموں کشمیر کے فنکاروں کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرنے کی اپیل

2026-10-20
ایل اے ایچ ڈی سی کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم پر اعتراض
اہم ترین

ایل اے ایچ ڈی سی کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم پر اعتراض

2026-10-20
پی او جے کے بھی بھارت کا ناقابلِ تنسیخ حصہ:وزارت خارجہ
اہم ترین

بھارت نے جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی کی قرارداد مسترد کر دی

2026-10-20
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

بانڈی پورہ میں 6500 روپے رشوت کیس: پوسٹل اسسٹنٹ کے خلاف چارج شیٹ دائر

2026-10-20
پلوامہ کے لاپتہ سبکدوش سرکاری ملازم کی لاش چوبیس روز بعد بر آمد
اہم ترین

گھر میں بیٹے کو لٹکتا دیکھ کر ماں نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی

2026-10-20
کپوارہ میں سرکاری ملازم منشیات فروش نکلا‘ گرفتار، براؤن شوگر بر آمد
اہم ترین

کشتواڑ میں ایس پی او کے  قتل کے الزام میں باپ بیٹا گرفتار

2026-10-20
ایل جی سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر کا ریلوے کے وزیر کا شکریہ
اہم ترین

ایل جی سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر کی وجے دشمی، دسہرہ اور  مہا نوامی پر عوام کو مبارکباد

2026-10-20

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.