واشنگٹن، 17 اکتوبر (یو این آئی) امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق 2026 کی رپورٹ میں چین کو بدستور تیسرے درجے (ٹائر 3) میں رکھا گیا ہے۔ اس زمرے میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کی حکومتیں انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے مقررہ کم از کم معیارات پر پوری نہیں اترتیں اور ان معیارات کی تکمیل کے لیے خاطر خواہ کوششیں بھی نہیں کرتیں۔
رپورٹ میں چین سمیت 12 ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں انسانی اسمگلنگ، حکومت سے وابستہ شعبوں میں جبری مشقت، سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے پروگراموں میں استحصال یا استحصال کی دیگر مخصوص صورتوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی یا اس کے منظم طرز عمل کے شواہد موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں کیوبا، روس، ایران، شمالی کوریا، کمبوڈیا اور بیلاروس بھی شامل ہیں۔
ٹائر 3 میں کسی ملک کی درجہ بندی وہاں انسانی اسمگلنگ کے مجموعی حجم کے بجائے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے امریکی جائزے پر مبنی ہوتی ہے۔ امریکی قانون برائے تحفظِ متاثرینِ انسانی اسمگلنگ کے تحت اس درجہ بندی کے نتیجے میں غیر انسانی ہمدردی اور غیر تجارتی نوعیت کی بعض غیر ملکی امداد پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں، تاہم صدارتی استثنا اور دیگر رعایتوں کی گنجائش موجود ہے۔
رپورٹ میں بین الاقوامی سطح پر سرگرم جرائم پیشہ تنظیموں کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، ان میں سے متعدد تنظیمیں چینی شہریوں کے زیر انتظام ہیں اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاوہ اب دوسرے خطوں میں بھی سرگرم ہورہی ہیں۔ ان نیٹ ورکس پر الزام ہے کہ وہ ایسے دھوکہ دہی کے مراکز چلاتے ہیں جہاں جبری مشقت اور دباؤ کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو نشانہ بناکر آن لائن فراڈ کیا جاتا ہے۔
امریکہ چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے مراکز کے عالمی پھیلاؤ سے فائدہ اٹھا کر ان خطوں میں اپنی سلامتی سے متعلق موجودگی کو وسعت دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں کے دوران کم از کم 80 ممالک سے لاکھوں افراد کو ان کارروائیوں کے لیے بھرتی کیا گیا، جن میں سے متعدد کو جبری مشقت پر مجبور کیا گیا یا ان سے دباؤ کے تحت غیر قانونی سرگرمیاں کرائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان کارروائیوں میں شامل بعض افراد کو جبری مشقت، غیر قانونی طور پر محصور رکھنے، دھمکیوں، تشدد اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین کو اکثر آن لائن بھرتی کے پلیٹ فارموں، سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز پر شائع ہونے والے جعلی ملازمت کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں حکومت سے وابستہ پروگراموں کے اندر مبینہ جبری مشقت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، ویغور، نسلی قازق، نسلی کرغیز اور دیگر اقلیتی گروہوں کو پیشہ ورانہ تربیت اور انتہا پسندی کے خاتمے کے نام پر من مانی حراست میں رکھے جانے کے خدشات برقرار ہیں۔
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ چینی حکام نے غربت کے خاتمے کے اقدامات، پیشہ ورانہ تربیت کی اسکیموں اور افرادی قوت کی منتقلی کے پروگراموں کے ذریعے ویغور، تبتی اور دیگر اقلیتی گروہوں کے افراد کو مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے پر مجبور کیا، جہاں جبر کے عناصر موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق، جبری مشقت سے متعلق خدشات صرف سنکیانگ تک محدود نہیں بلکہ چین کے دیگر علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ چینی حکام نے بیرون ملک مقیم نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو وطن واپس بھیجنے اور حراست میں لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، جس سے انہیں مزید استحصال کے خطرات لاحق ہوئے۔
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں قائم دھوکہ دہی کے نیٹ ورکس کے باعث امریکی شہریوں کو 2025 میں کم از کم 18.2 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ مزید کہا گیا ہے کہ 125 سے زیادہ ممالک میں لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے فراڈ، رومانوی تعلقات کے نام پر دھوکہ دہی اور غیر قانونی آن لائن جوئے جیسی سرگرمیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ نیٹ ورک جنوب مشرقی ایشیا سے نکل کر افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ تک پھیل رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور کرپٹو کرنسی کا استعمال بھی بڑھا رہے ہیں۔
امریکی رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کو مضبوط بنائیں، سرکاری بدعنوانی کا سدباب کریں اور انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو مؤثر تحفظ فراہم کریں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آن لائن فراڈ میں حصہ لینے پر مجبور کیے گئے افراد کو محض مجرم قرار نہیں دیا جانا چاہیے، اگر ان کے اقدامات براہ راست انسانی اسمگلنگ کا نتیجہ ہوں۔
رپورٹ میں بین الاقوامی تعاون بڑھانے، متاثرین کی بروقت شناخت، پناہ گاہوں اور قانونی مدد تک رسائی یقینی بنانے اور متاثرین کو دوبارہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس میں پھنسنے سے بچانے کے اقدامات کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹائر 3 کی درجہ بندی کے امریکی قانون کے تحت پالیسی اور امداد سے متعلق ممکنہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔








