بینڈ (اوریگن)، 17 اکتوبر (الجزیرہ): امریکی ریاست اوریگن کے ایک ابتدائی اسکول میں تین بچوں اور ایک ٹیچر کو ہلاک کرنے والا 16 سالہ حملہ آور اسی اسکول کا سابق طالب علم تھا، جسے خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کی جماعت میں تعلیم دی جاتی تھی۔ پولیس اور اسکول حکام نے یہ اطلاع دی۔
بینڈ پولیس کے سربراہ مائیک کرانٹز نے جمعہ کو حملہ آور کی شناخت گریفن جے جان دوم کے طور پر کی۔ یہ واقعہ جمعرات کو سلور ریل ایلیمنٹری اسکول میں پیش آیا تھا۔
پولیس سربراہ کے مطابق نوجوان نے خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کی جماعت کو نشانہ بنایا، جہاں تمام متاثرین کو گولیاں ماری گئیں۔
بینڈ لا پائن اسکولز کے سپرنٹنڈنٹ اسٹیون کک نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملے کے وقت جان مقامی سرکاری اسکول نظام میں زیر تعلیم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کا نشانہ بننے والی جماعت خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کے لیے مختص تھی اور ملزم بھی ماضی میں اسی اسکول میں ایسا ہی طالب علم تھا۔
کرانٹز کے مطابق حملہ آور نے 12 گیج کی شاٹ گن سے بند دروازوں پر فائرنگ کرتے ہوئے راستہ بنایا اور تقریباً 15 گولیاں چلائیں۔ ہلاک ہونے کے وقت اس کے پاس تقریباً 44 کارتوس باقی تھے۔ پولیس تاحال اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ اسے بندوق کہاں سے ملی۔
اوریگن کے قانون کے تحت نابالغ کو والدین کی جانب سے بندوق فراہم کیے جانے یا ان کی اجازت سے شاٹ گن رکھنے کی اجازت ہے۔
حملہ آور کی والدہ شانٹائی نکرسن نے اپنے اپارٹمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”مجھے بے حد افسوس ہے، کاش میں کچھ کرسکتی۔”
پولیس سربراہ نے بتایا کہ ایک ٹیچر نے پہلے حملہ آور کی طرف اپنا موبائل فون پھینکا اور پھر اس سے الجھ کر اسے قابو کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ٹیچر کی اس بہادری سے ممکنہ طور پر کئی جانیں بچ گئیں۔ اس واقعے میں ٹیچر کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔
اس کے بعد اسکول میں زیر تعلیم دو بچوں کے 36 سالہ والد کیلُب جیمانکو حملہ آور کے پیچھے اندر داخل ہوئے اور پہلی ہنگامی کال کے چند منٹ بعد اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جیمانکو کو ”عظیم ہیرو” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ”یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے، لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہاں ایک ایسا شخص موجود تھا جس کے پاس بندوق تھی اور وہ اسے استعمال کرنا جانتا تھا۔”
پولیس کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ، آٹھ اور 11 سال تھیں، جبکہ ہلاک ہونے والی ٹیچر کی شناخت 25 سالہ میگھن لیمبرٹ کے طور پر ہوئی ہے۔
ایک سات سالہ بچے اور 54 سالہ ٹیچر کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس، یو ایس اے ٹوڈے اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے مشترکہ ڈیٹا بیس کے مطابق یہ واقعہ رواں سال امریکہ میں اجتماعی ہلاکتوں کا 28واں واقعہ ہے۔
امریکہ میں گن وائلنس آرکائیو کے مطابق 2026 میں اب تک فائرنگ کے 369 اجتماعی واقعات درج کیے جاچکے ہیں۔ اس ادارے کی تعریف کے مطابق ایسے واقعات میں چار یا اس سے زیادہ افراد کو گولی ماری جاتی ہے۔
گن کنٹرول کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایوری ٹاؤن فار گن سیفٹی کے مطابق رواں سال اب تک اسکولوں کے احاطے میں فائرنگ کے کم از کم 100 واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں 34 افراد ہلاک ہوئے۔








