سابق چیمپئن دانیل میدوی دیف نے ٹومی پال کو کوارٹر فائنل میں 6-3، 1-6، 6-3 سے شکست دے کر تیسری بار رولیکس شنگھائی ماسٹرز کے سیمی فائنل میں جگہ بنالی۔ اس جیت سے ‘نِٹو اے ٹی پی فائنلزکے لیے ان کے کوالیفائی کرنے کے امکانات بھی مزید مضبوط ہوگئے ہیں۔
پانچویں سیڈ میدوی دیف نے دو گھنٹے نو منٹ تک جاری مقابلے میں دوسرے سیٹ کی ناکامی کے بعد تیسرے سیٹ میں شاندار واپسی کی۔ فیصلہ کن سیٹ میں انہوں نے طویل ریلیوں کے دوران پال پر دباؤ برقرار رکھا۔ پال کی پہلی سرو صرف 47 فیصد درست رہی اور انہوں نے 17 ان فورسڈ ایررز کیے۔ اس جیت کے بعد پال کے خلاف میدوی دیف کا اے ٹی پی ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ 5-1 ہوگیا ہے۔
میدوی دیف نے کہا، آج درمیان میں میرا کھیل کچھ لڑکھڑایا، لیکن تیسرا سیٹ شاندار رہا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے سیٹ میں 6-1 سے شکست کے باوجود انہوں نے پال کو سخت ٹکر دی اور تیسرے سیٹ میں بہتر سرو کے ساتھ خود کو سنبھالتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔
میدوی دیف اس ڈرا میں واحد سابق شنگھائی چیمپئن ہیں۔ انہوں نے 2019 میں خطاب جیتا تھا۔ اس سیزن کے تیسرے اے ٹی پی ماسٹرز 1000 سیمی فائنل میں پہنچنے والے 30 سالہ میدوی دیف کا سیمی فائنل میں سامنا 20 سالہ اسپینی کھلاڑی رافیل جودار سے ہوگا، جنہوں نے کیسپَر روڈ کو 4-6، 6-4، 6-3 سے شکست دی۔ جودار شنگھائی ماسٹرز کی تاریخ کے سب سے کم عمر سیمی فائنلسٹ بن گئے ہیں۔
میدوی دیف نے جودار کے بارے میں کہا کہ ان کا کھیل بہت شاندار ہے اور وہ بہت طاقتور شاٹس لگاتے ہیں۔ میدوی دیف نے کہا کہ اگر وہ اپنا بہترین کھیل پیش کرنے میں کامیاب رہے تو انہیں شکست دینا مشکل ہوگا۔
ایشیائی دور میں میدوی دیف کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ سابق عالمی نمبر ایک کھلاڑی نے گزشتہ ماہ ہانگژو میں اے ٹی پی 250 ٹورنامنٹ میں اس سیزن کا تیسرا خطاب جیتا تھا۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ان کا ریکارڈ 11-1 رہا ہے اور وہ بیجنگ میں بھی سیمی فائنل تک پہنچے تھے۔
شنگھائی میں تازہ کامیابی کے بعد میدوی دیف ‘اے ٹی پی لائیو ریس ٹو ٹورین’ میں دو مقام کی بہتری کے ساتھ چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے 3420 پوائنٹس ہیں، جو دسویں نمبر پر موجود الیکس ڈی مینار سے 540 پوائنٹس زیادہ ہیں۔ میدوی دیف نے 2021 میں ‘نِٹو اے ٹی پی فائنلز’ کا خطاب جیتا تھا، تاہم گزشتہ سال وہ کوالیفائی نہیں کر سکے تھے۔





