اسپین کے یوجینیو چکارا، جن کی ہندوستان سے محبت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، 40 لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم والی ڈی پی ورلڈ انڈیا چیمپئن شپ میں 10 انڈر پار 134 کے اسکور کے ساتھ آدھے مرحلے پر سب سے آگے پہنچ گئے ہیں۔ تاہم، انہیں اپنے راؤنڈ کے اختتام پر ایک بوگی کا سامنا کرنا پڑا۔
ہندوستان میں چکارا کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ اس سے پہلے یہاں کھیلے گئے 4 ٹورنامنٹوں میں انہوں نے ایک خطاب جیتا ہے اور 2 بار ٹاپ 5 میں جگہ بنائی ہے۔ گزشتہ سال اسی ٹورنامنٹ میں وہ مشترکہ طور پر 26ویں مقام پر رہے تھے۔ دوسرے راؤنڈ کے بعد چکارا نے کہاکہ سب سے آگے رہنا اچھا لگتا ہے، لیکن ابھی کافی گولف کھیلنا باقی ہے۔
تاہم، میں اپنی موجودہ پوزیشن اور اپنے کھیل کے معیار سے خوش ہوں۔ مجھے صرف ان چیزوں پر توجہ دینی ہے جو میرے اختیار میں ہیں اور اگلے چند راؤنڈ کے لیے میرا یہی ہدف ہے۔ مجھے اپنی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ میں ایسا کر پاؤں گا۔
ہندوستانی شائقین کے لیے خوشی کی بات یہ رہی کہ 6 ہندوستانی کھلاڑیوں نے دہلی گولف کلب میں 36 ہولز کے بعد کٹ پار کر لیا۔ کٹ کی حد ایون پار پر رہی۔ ہندوستانی کھلاڑیوں میں اوم پرکاش چوہان (68-72) سب سے آگے رہے۔
آج صبح جب انہوں نے اپنا دوسرا راؤنڈ دوبارہ شروع کیا تو ابتدا ہی میں ڈبل بوگی کا سامنا کرنے کے باوجود وہ آگے بڑھنے میں کامیاب رہے۔ وہ مشترکہ طور پر 29ویں مقام پر ہیں اور آخری 2 راؤنڈ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہیں۔
دوسرے راؤنڈ میں، جو تیسرے دن صبح مکمل ہوا، ہندوستانی کھلاڑیوں میں یوراج سندھو (75-68) توجہ کا مرکز رہے۔ ابتدائی 7 ہولز میں وہ 3 اوور پر تھے، لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے آخری 10 ہولز میں 7 برڈیز لگائیں۔ پہلے راؤنڈ میں 75 کا اسکور بنانے کے بعد انہوں نے شاندار واپسی کی اور اپنے آخری 9 ہولز میں 6 برڈیز حاصل کیں۔ ایک وقت وہ ٹورنامنٹ میں 3 اوور پر تھے، لیکن 10ویں سے 18ویں ہول کے درمیان 7 برڈیز لگا کر انہوں نے زبردست واپسی کی۔ آخری 5 ہولز میں 4 برڈیز کے ساتھ انہوں نے شاندار اختتام کیا۔
انہوں نے 68 کے اسکور کے ساتھ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر ایک انڈر کا اسکور بنایا اور مشترکہ طور پر 53ویں مقام پر رہے۔ یوراج نے کہاکہ میں نے ابھی اپنا راؤنڈ مکمل کیا ہے اور اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں نے یہ کیسے کر دکھایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں صرف کھیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کل اور آج، ان 36 ہولز کے دوران، میں نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ہر شاٹ کے دوران اپنا ضبط برقرار رکھیں۔
انربان لاہڑی (70-73)، جنہوں نے آخری بار 2015 میں اسی کورس پر ہیرو انڈیا اوپن میں بین الاقوامی خطاب جیتا تھا، اپنا دوسرا راؤنڈ ایک دن پہلے ہی مکمل کر چکے تھے اور مشترکہ طور پر 53ویں مقام پر تھے۔ کٹ پار کرنے والے دیگر ہندوستانی کھلاڑیوں میں شیو کپور (72-72) بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایک دن پہلے برڈی کے ساتھ اپنا راؤنڈ ختم کیا تھا۔ ان کے علاوہ کرندیپ کوچر (72-72) اور سپتک تلوار (71-73) بھی اگلے مرحلے میں پہنچ گئے۔ سپتک تلوار کو 18ویں اور آخری ہول پر بوگی کرنے کے بعد سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کپور، کوچر اور تلوار تینوں ایون پار کے اسکور کے ساتھ مشترکہ طور پر 63ویں مقام پر رہے، جو کٹ کی حد بھی تھی۔
ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے 7 بڑے خطاب جیتنے والے چیمپئنوں میں سے جو کھلاڑی اگلے مرحلے، یعنی ویک اینڈ راؤنڈ تک پہنچے، ان میں روری میکلرائے (70-68) مشترکہ طور پر 12ویں، شین لوری (75-65) مشترکہ طور پر 29ویں، آرون رائے (69-74) مشترکہ طور پر 53ویں، جبکہ جسٹن روز (72-72) اور پیٹرک ریڈ (75-69) مشترکہ طور پر 63ویں مقام پر رہے۔






