سرینگر؍۱۶ ؍اکتوبر
مرکزی وزارتِ داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان یہاں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان مرکز کی جانب سے پیش کردہ مسودۂ تجویز پر اختلافات سامنے آئے، جس میں مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور قانون ساز اسمبلی کے قیام سے متعلق امور شامل ہیں۔
دونوں فریق اب۲۲؍ اکتوبر کو نئی دہلی میں دوبارہ ملاقات کریں گے، جہاں اپنی اپنی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ادھر لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے مرکز کی جانب سے پیش کردہ مسودے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی ذیلی کمیٹی اور ایل اے بی و کے ڈی اے کے نمائندوں کے درمیان جمعرات کو لیہہ سیکریٹریٹ میں تقریباً تین گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ یہ دونوں تنظیمیں لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کی قیادت کر رہی ہیں۔
لداخ کے وفد میں لوک سبھا کے رکن حاجی حنیفہ جان، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، کرگل ہل کونسل کے چیف ایگزیکٹو کونسلر محمد جعفر اخون، لداخ کے چیف سکریٹری آشیش کندرا اور لیہہ ہل کونسل کے سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر تاشی گیالسن شامل تھے۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین اصغر کربلائی نے بتایا کہ لداخ کے نمائندوں نے سوالنامے کے ہر نکتے کا تفصیلی جواب پیش کیا، جس کے بعد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بھی پیش کی گئی۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ نے اپنا مسودۂ تجویز سامنے رکھا۔
کربلائی نے کہا، ’’ہم اس پیشکش سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ یہ نہ ہمارے مطالبات سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی لداخ کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ نے مسودہ ایل اے بی اور کے ڈی اے کی قیادت کے ساتھ شیئر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بعد دونوں تنظیموں کے قانونی ماہرین مسودے کا جائزہ لے کر اپنا جواب تیار کریں گے اور۱۸؍ اکتوبر تک اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ کربلائی کے مطابق، ان تجاویز پر۲۲؍اکتوبر کو نئی دہلی میں ہونے والے اگلے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سونم وانگچک نے بھی مذاکرات کے نتیجے پر عدم اطمینان ظاہر کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ مسودے کا جائزہ لیے جانے تک اس عمل کو ناکامی کے بجائے مذاکرات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کا فاصلہ توقع سے کہیں زیادہ ہے اور موجودہ بات چیت میں گزشتہ ادوار کے مذاکرات کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار نہیں رکھا جاسکا۔
ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے نے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنی تجاویز پیش کیں، لیکن کسی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے اگلے دور کے مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ لداخ کے لیے قانون ساز اسمبلی اور آئین کے آرٹیکل۳۷۱ (کے) کے تحت آئینی تحفظات کا مطالبہ کمزور نہیں کیا جائے گا۔
لیہہ ہل کونسل کے سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر تاشی گیالسن نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ نے اپنی تجویز پیش کی، جبکہ ایل اے بی اور کے ڈی اے نے متعدد تجاویز پر مشتمل ایک دستاویز پیش کی، جن پر اجلاس میں تبادلہ خیال ہوا۔ ان کے مطابق، فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور مذاکرات کا عمل اب نئی دہلی میں آگے بڑھے گا۔
واضح رہے کہ ایل اے بی اور کے ڈی اے لداخ کے لیے آئینی تحفظات، ریاستی درجے اور قانون ساز اسمبلی سمیت مختلف مطالبات پیش کرتی رہی ہیں۔ ان مطالبات کا مقصد خطے کی زمین، شناخت اور ثقافت کا تحفظ کرنے کے ساتھ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










