سرینگر؍۱۶؍اکتوبر
سپریم کورٹ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے وابستہ ممکنہ خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع اور قابلِ نفاذ قومی نظام وضع کرنے کی درخواست پر مرکزی حکومت اور قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال سے جواب طلب کرلیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے اندور کے ایمرلڈ ہائٹس انٹرنیشنل اسکول اور اس کے شعبۂ تعلیم کے ڈائریکٹر سدھارتھ سنگھ گرنار کی جانب سے دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے وزارتِ خواتین و بہبودِ اطفال، وزارتِ قانون و انصاف اور قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کو نوٹس جاری کیے۔
بنچ نے یہ عرضی پہلے سے زیرِ سماعت ایک درخواست کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے سماعت کیلئے۷ دسمبر کی تاریخ مقرر کی۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے تجارتی پلیٹ فارموں سے لاحق خطرات سے مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں متعلقہ حکام کی مسلسل ناکامی من مانے اور غیر معقول طرزِ عمل کے زمرے میں آتی ہے اور آئین کی دفعات۱۴/۱۵(۳)/۲۱؍اور ۲۱اے کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی عمر کی لازمی تصدیق، عمر کے مطابق سوشل میڈیا تک رسائی، والدین کی قابلِ تصدیق رضامندی اور آن لائن ہراسانی، جنسی استحصال اور نقصان دہ مواد سے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
عرضی میں مرکزی حکومت کو ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص، جامع اور قابلِ نفاذ ضابطہ جاتی نظام تیار کرے، اسے باضابطہ طور پر نافذ کرے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مرکز کو ہدایت دے کہ مقررہ عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، جبکہ اس عمر سے زیادہ بچوں کے استعمال کو مناسب ضابطوں کے تحت لایا جائے۔ اس کے علاوہ مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بچوں کے کھاتے بنانے، برقرار رکھنے اور استعمال کرنے کے لیے عمر کی بنیاد پر پابندیاں نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عرضی میں ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کم عمر بچے سوشل میڈیا پر کھاتے چلاتے ہیں، اجنبی افراد ان سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں آن لائن ہراسانی اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، موبائل فون کے طویل استعمال سے بچوں کی نیند متاثر ہونے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں کمی جیسے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔
درخواست میں والدین کی ان تشویشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق بچوں کا اسکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا، آن لائن مقبولیت کے حوالے سے بے چینی، جسمانی خدوخال کے بارے میں احساسِ کمتری، سماجی میل جول سے دوری اور تعلیم و بیرونی سرگرمیوں میں دلچسپی کی کمی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اسکول اور والدین تنہا ان مسائل سے مؤثر طور پر نہیں نمٹ سکتے، کیونکہ خطرات صرف انٹرنیٹ پر دستیاب مواد تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ایسے ڈیزائن اور طریقۂ کار سے بھی وابستہ ہیں جو صارفین کو طویل وقت تک ان کے استعمال میں مصروف رکھتے ہیں۔
درخواست گزار نے خبردار کیا ہے کہ بچے آن لائن افراد کی جانب سے اعتماد حاصل کرکے انہیں اپنے جال میں پھنسانے، جنسی استحصال، بلیک میلنگ، جعلی شناخت کے ذریعے دھوکہ دہی، نجی تصاویر کی تشہیر اور تشدد، جنسی نوعیت یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد تک رسائی جیسے خطرات کے حوالے سے خاص طور پر غیر محفوظ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










