جاپان میں ایشیائی کھیلوں کے دوران زخمی ہونے والے ہندوستانی لانگ جمپر مُرلی سری شنکر کے دائیں ٹخنے کی سرجری ہوئی ہے۔ اب ان کی پوری توجہ 2027 کے ایتھلیٹکس سیزن میں واپسی پر ہے۔
27 سالہ ہندوستانی ایتھلیٹ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے سرجری کی تصدیق کی۔ سری شنکر نے لکھا، میں بالکل نہیں چاہتا تھا کہ مجھے ان سب مراحل سے گزرنا پڑے، لیکن اس بار میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
کل لندن کے فورٹیئس کلینک میں ڈاکٹر پیٹر ڈی ہُوگے کی نگرانی میں میرے ٹخنے کی معمولی سرجری ہوئی۔ گزشتہ ماہ آئیچی-ناگویا میں منعقدہ ایشیائی کھیلوں کے دوران لانگ جمپ فائنل میں سری شنکر کا ٹخنہ زخمی ہوگیا تھا۔ بارش سے بھیگے رن وے پر چوتھی کوشش کی تیاری کے دوران وہ ٹیک آف بورڈ پر پھسل گئے، جس سے ان کے دائیں ٹخنے میں موچ آگئی۔ انہوں نے اپنے انسٹاگرام پیج پر اس واقعے کی ویڈیو بھی پوسٹ کی تھی۔ اس چوٹ کے باعث انہیں آخری دو جمپس چھوڑنے پڑے، تاہم دوسرے راؤنڈ میں لگائی گئی 8.07 میٹر کی چھلانگ انہیں چاندی کا تمغہ دلانے کے لیے کافی رہی۔ ابتدائی طور پر سری شنکر کو لگا کہ ٹخنے کی چوٹ زیادہ سنگین نہیں ہے اور آرام و بحالی سے وہ ٹھیک ہوجائے گی، لیکن بعد میں اسکین اور ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد سرجری کی ضرورت محسوس ہوئی۔ منگل کو اسپورٹس آرتھوپیڈک سرجن پیٹر ڈی ہُوگے کی نگرانی میں لیگامنٹ ریکنسٹرکشن سرجری کی گئی۔ مُرلی سری شنکر، جن کے نام لانگ جمپ کا قومی ریکارڈ بھی رہا ہے، جسے بعد میں جیسون ایلڈرِن نے توڑ دیا، نے کہا کہ وہ آئندہ سیزن کے لیے تیار رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ”سرجری ضروری تھی تاکہ میرا ٹخنہ مستحکم رہے اور آنے والے سیزن کے لیے تیار ہوسکے۔ اس میں بیجنگ میں ہونے والی 2027 ورلڈ چیمپئن شپ اور سب سے اہم 2028 لاس اینجلس اولمپکس شامل ہیں۔” ایشیائی کھیلوں، کامن ویلتھ گیمز اور ایشیائی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں چاندی کے تمغے جیتنے والے اس ہندوستانی ایتھلیٹ کو حالیہ برسوں میں انجریز کے باعث کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گھٹنے کی چوٹ کے سبب وہ پیرس 2024 اولمپکس میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ طویل وقفے کے بعد 2025 میں واپسی کرنے کے بعد انہوں نے 2026 کامن ویلتھ گیمز اور ایشیائی کھیلوں میں چاندی کے تمغے جیتے، لیکن اس کے بعد انہیں ایک اور جھٹکا لگا۔ مسلسل ہونے والی انجریز کے بارے میں سری شنکر نے مثبت رویہ اپناتے ہوئے کہا، ”آپ میں سے کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کھلاڑی بار بار زخمی کیوں ہوجاتا ہے۔ سچ کہوں تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ میں اس کے لیے گیلے ٹیک آف بورڈ یا اپنی قسمت کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہوں، لیکن اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اس کے بجائے جو کچھ ہوا ہے اسے قبول کرتے ہوئے، میں خود کو مزید بہتر بنانے کی سمت میں کام جاری رکھوں گا۔” باسکٹ بال کے لیجنڈ کوبی برائنٹ کے مداح سری شنکر نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا، ”لیکن ایک بات میں یقینی طور پر جانتا ہوں کہ مجھ میں واپسی کرنے کا ایک خاص جذبہ اور ‘ممبا مینٹیلٹی’ ہے۔ یہی چیز مجھے آگے بڑھنے میں مدد کرے گی۔” یو این آئی۔ م س




