سرینگر؍۱۴؍اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے بدھ کے روز گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سرینگر کو ’’طبِ داخلی میں پیش رفت: شواہد سے طبی عمل میں بہترین کارکردگی تک‘‘ کے موضوع پر کانفرنس منعقد کرنے پر مبارک باد دی۔
اپنے پیغام میں انہوں نے جامع اور مریضوں کی ضروریات پر مبنی طبی سہولیات فراہم کرنے میں طبِ داخلی کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈاکٹروں کو اکثر بظاہر معمولی علامات کے پیچھے چھپی پیچیدہ بیماریوں کی شناخت کرنے جیسے مشکل کام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبِ داخلی کی اصل طاقت انسانی جسم کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنے اور طبی علم، تجربے اور باریک بینی سے مشاہدے کے ذریعے مریض کی مکمل طبی کیفیت کو سمجھنے میں مضمر ہے۔
سنہا نے کہا کہ مشاہدہ، استدلال، انسانی فہم اور حوصلہ وہ نمایاں خصوصیات ہیں جو ایک معالج کی شناخت بنتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ڈاکٹر اکثر خاندانوں کے لیے طبی امداد کا پہلا ذریعہ ہوتے ہیں اور کئی معاملات میں اعتماد، ہمدردی اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر نسل در نسل قائم رہنے والے تعلقات استوار کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جی ایم سی سرینگر کی طبی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں نمایاں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے سے تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کی کئی نسلیں جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ایل جی نے صحت کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعدی بیماریاں بدستور تشویش کا باعث ہیں، تاہم طرزِ زندگی سے متعلق امراض، مثلاً ذیابیطس، بلند فشارِ خون، موٹاپا، جگر میں چربی جمع ہونے کی بیماری اور دل کے امراض وبائی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تشخیص، علاج اور طبی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت سے دیہی اور دور دراز علاقوں کے ڈاکٹروں اور مریضوں کو بھی اسی طرح فائدہ پہنچے جس طرح شہری علاقوں میں دستیاب سہولیات سے حاصل ہوتا ہے۔
سنہا نے طبی برادری پر زور دیا کہ وہ مقامی سطح پر طبی تحقیق کو فروغ دے اور بھارت کی متنوع آبادی کے لیے موزوں سائنسی شواہد تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی میں تنوع، ڈاکٹروں کی مہارت اور ان کے عزم کے ساتھ مل کر سائنسی دریافتوں اور جدت طرازی کے وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔
ایل جی نے کہا، ’’طبی سائنس تاریخی پیش رفت کر رہی ہے اور نئی ادویات اور تشخیصی آلات نے علاج کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہ جدید سہولیات صرف بڑے شہروں کے ڈاکٹروں تک محدود نہ رہیں بلکہ دیہات میں کام کرنے والے معالجین تک بھی پہنچیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سہولیات اور دستیاب آلات تک رسائی کے معاملے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان معمولی سا فرق بھی نہ رہے۔ اس کانفرنس کا پہلا مقصد یہی ہونا چاہیے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے طبی شعبے کے لیے آئندہ پانچ برسوں کا لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے چھ اہم ترجیحات کا ذکر کیا۔ ان میں ڈیجیٹل صحت کے پلیٹ فارموں اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے جدید طبی معلومات تک رسائی میں توسیع، احتیاطی نگہداشت اور بیماریوں کی جلد تشخیص کو ترجیح دینا، طبی فیصلوں میں معالج کی صوابدید برقرار رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو معاون ذرائع کے طور پر استعمال کرنا، تحقیقی صلاحیت کو مسلسل مضبوط بنانا، ڈاکٹروں کی فلاح و بہبود یقینی بنانا اور پیشہ ورانہ تھکن کے مسئلے سے نمٹنا، اور طبی خدمات کی فراہمی میں انسانی ہمدردی کو مرکزی حیثیت دینا شامل ہیں۔
سنہا نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھیں، جدت کو اپنائیں اور تجربہ کار اساتذہ سے رہنمائی حاصل کریں۔ انہوں نے سینئر معالجین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے طبی تجربات اور علم کو فراخ دلی سے نوجوان ڈاکٹروں تک منتقل کریں اور صحت کے شعبے سے وابستہ نئی نسل کی رہنمائی کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور جگر کی بیماریوں کی جلد تشخیص کم خرچ ہوتی ہے اور علاج کے اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ میں تمام ڈاکٹروں اور ماہرینِ طبِ داخلی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مقامی سطح پر بیماریوں کی روک تھام کی مہمات کی قیادت کریں، کیونکہ ڈاکٹر کی آواز معاشرے پر غیر معمولی اثر ڈال سکتی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کی روک تھام کے بارے میں لوگ آپ کے مشوروں کو سنجیدگی سے لیں گے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ ڈاکٹروں کی محنت، خدمات اور لگن کی قدر کی جانی چاہیے۔ مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور اداروں کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ڈاکٹروں کی ضروریات اور فلاح و بہبود کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو بہتر کام کرنے کا ماحول اور سازگار حالات فراہم کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)









